.

ایردوآن کے بعد ترکی کے وزیر دفاع کا قطر کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کے روز اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے دوحہ میں ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آکار سے ملاقات کی۔ تاہم مذکورہ ایجنسی نے ملاقات کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اس سے قبل دو جولائی کو ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن ایک دن کے دورے پر دوحہ گئے تھے جہاں انہوں نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد سے ملاقات کی۔ یہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ترک صدر کا پہلا بیرونی دورہ تھا۔

دورے کے بعد انقرہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ملکوں کے بیچ نئے مالیاتی سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

چند روز قبل فرانسیسی روزنامے لو فیگارو میں شائع ہونے والی ایک وسیع تحقیقاتی رپورٹ میں چند سال قبل قطر کی جانب سے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو دیے گئے ایک نہایت مہنگے تحفے کی یاد دہانی کرائی گئی۔ یہ تحفہ ایک انتہائی پُر تعیش بوئنگ 747 طیارہ تھا جو ایردوآن کے حلیف امیرِ قطر نے ترک صدر کو پیش کیا۔ یہ قطر کی ترکی کے ساتھ مضبوط شراکت داری کی علامت تھا جس نے شام اور لیبیا میں توازن تبدیل کر دیا۔ اخبار کی رپورٹ میں دونوں ملکوں کے درمیان گہرے اور قریبی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی جس میں سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں رابطہ کاری بھی شامل ہے۔

سال 2017ء سے دوحہ اور انقرہ کے اتحاد میں مضبوطی آتی جا رہی ہے۔ ترکی اور قطر کا گٹھ جوڑ جو "سیاسی اسلام" اور الاخوان المسلمین اور دیگر تنظیموں کے دفاع پر قائم ہے، اس نے عرب اور اسلامی دنیا میں دراڑ ڈال دی ہے۔

اسی طرح جولائی 2016 میں ترک صدر کے خلاف انقلاب کی ناکام کوشش نے بھی دونوں ملکوں کے تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ اس موقع پر گیس کی دولت سے مالا مال ریاست نے ترکی کی کرنسی لیرہ کو سہارا دینے کے لیے ترکی کے مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر جمع کرائے۔

قطر نے ترکی میں سیاحت اور بینکنگ سیکٹروں کے علاوہ صنعتی میدان میں بھی سرمایہ کاری کی۔ رواں سال 20 مئی کو ترکی نے غیر ملکی کرنسیوں کا نیا ذریعہ حاصل کر لیا۔ قطر اور ترکی کے مرکزی بینکوں کے درمیان تبادلے کا مجموعی حجم بڑھ کر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

فرانسیسی اخبار کی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی گئی کہ دونوں ملکوں کے بیچ یہ شراکت داری دفاع، انٹیلی جنس اور اسلامی دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے جیسے حساس میدانوں تک پھیل گئی۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کی خارجہ انٹیلی جنس (MIT) کے افسران نے قطر کی انٹیلی جنس کے اداروں میں اپنی جگہائیں سنبھال لیں۔ خلیجی امور کی جان کاری رکھنے والے ایک فرانسیسی انٹیلی جنس افسر نے اس بات کی تصدیق کی۔