.

قطر سے حزب اللہ کو رقم کی فراہمی اور پردہ داری کے لیے رشوت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خفیہ سراغ رسانی کی دنیا ، نجی ایجنٹ اور ماسٹر مائنڈ عام طور پر عوام سے دور رہ کر کام کرتے اور اپنے مخفی کاموں کا کم ہی سراغ لگنے دیتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جاسوسی کرنے والے ادارے کسی مشن کی جاسوسی کے دوران بے نقاب ہو جائیں لیکن جرمنی میں اس کے برعکس ہوا۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق 'جیسن ج'نامی ایک سیکیورٹی کمپنی کے "ٹھیکیدار" جس نے مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ کام کیا قطر سمیت دنیا بھر میں گھوم رہی اپنی چھوٹی نجی کمپنی کے ذریعے جرمن اخبار "ڈائی زیٹ" کو بتایا کہ دوحا میں حزب اللہ عسکری گروپ کو رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ ان رقوم کی فراہمی کا عمل قطر کے کئی حکومتی عہدیداروں کی طرف سے جاری ہے مگر وہ اس کی پردہ داری کرتے ہیں۔ حزب اللہ کو رقوم کی منتقلی کو صیغہ راز میں رکھنے کے لیے ان عہدیداروں کو رشوت دی جاتی ہے۔

اس شخص کے ذریعہ حاصل کردہ معلومات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی یورپ سے ایک قطری کمپنی نے مشرقی یورپ کے ممالک کے ساتھ اسلحے کے حصول کا ایک معاہدہ کیا۔ اس کے ساتھ دوحا میں متعدد دولت مند قطری اور لبنانی شہریوں کی جان سے حزب اللہ کے لیے رقوم کی منتقلی جاری رکھنے کا معاہدہ کیا گیا۔

دو تجربہ کار صحافی یاسین مشربش اور ہلجر اسٹارک اس خفیہ ڈیل کی معلومات ملیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ عطیات بااثر سرکاری عہدیداروں نے دوحا میں ایک رفاہی تنظیم کے ذریعہ حزب اللہ تک پہنچائے۔

اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قطر سے کسی دہشت گرد گروہ کو پیسوں کی فراہمی سے دوحا پر دباؤ بڑھ جائے گا اور ممکنہ طور پر اس پر پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔

خاموشی کی خریداری

جرمن اخبار کے مطابق قطر نے جیسن کو 750،000 یورو کی پیش کش کی کہ ان معلومات کو افشا نہ کرئے مگر مذاکرات ناکام ہوگئے۔ ام معلومات کی قیمت مذکورہ رقم سے کہیں زیادہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دوحا انٹیلی جنس کے شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعلقات پر قطری خفیہ اداروں کو عالمی سطح پر پہلے ہی تنقید کا سامنا ہے۔

خفیہ فائل کی قیمت

کہانی کا آغاز سنہ 2017 کے آخر میں ہوا جب جیسن جے کی ملاقات ایک جرمن وکیل جو جرمنی کے سیاستدانوں سے رابطے میں تھا سے ہوئی۔ اس نے اسے بدلے میں برلن کے سیاسی مشیر مائیکل انیکر کے سامنے پیش کیا۔

سنہ2015 میں بورڈ کے چیئرمین بننے سے پہلے انیکر 2014 سے یوروکوم ڈبلیو ایم پی مشاورتی فرم میں کام کر رہے ہیں۔
وہ دوحا اور حزب اللہ کے بارے میں حاصل کردہ بھرپور معلومات کے ساتھ پکڑا گیا۔ لہذا ، جیسن جی نے وکیل کے علاوہ مذاکرات کی میز پر پیسے کے لین دین کی کوشش کی۔ ان معلومات کی قیمت ایک کروڑ یورو تھی۔

سیکیورٹی ایجنٹ اور اس کے وکیل کے ذہن میں اس طرح کی فائل کی قیمت کے گرد گھومتا تھا۔ اناکر کے مطابق مخبر کے بعد جب یہ معلوم ہوا کہ یہ معلومات دہشت گردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کے لیے ممکنہ طور پر بہت اہم ہو سکتی ہیں۔ اسلیے انہوں نے جرمنی کے سیکیورٹی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ ان کی بھاری قیمت وصول کرسکیں۔ قیمت پر گفت و شنید کے تناظر میں ، یوروکوم نے قطری سفارت کاروں کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کیا۔ خاص طور پر اناکر کو قطری سفارتی اہلکار کے ذریعہ جانا گیا۔ بعد میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے قطری ایجنٹوں کو معلومات دی تھیں۔

سنہ 2019 کے آغاز پر اناکر ، جیسن جی اور قطری سفارت کار نے برسلز میں ملاقات کی اور تفصیلات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کھانا کھایا۔

قطری سفارت کار سے 6 ملاقاتیں

جیسن کے مطابق اناکر کی ثالثی نے اپنے اور قطری سفارت کار کے مابین 6 ملاقاتوں کا اہتمام کرایا۔ جو اس بات پر خوش ہوئے کہ جیسن جی دوحہ کی مدد کرنے پر راضی ہے۔ اس کا مطلب کیس میں موجود معلومات میں "مشتبہ قطری افراد کے نام" کو ہٹانا تھا۔
تاہم معلومات کے انکشاف کے بعد سفارت کار نے جرمن اخبار "ڈائی زیٹ" کی انکوائری کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

اس کے علاوہ جیسن جی نے کہا کہ انہیں لگاتار ملاقاتوں کے دوران متعدد بار 10،000 یورو نقد موصول ہوئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قطر والوں نے مزید ایک لاکھ یورو کی ادائیگی کی لیکن اس کے بغیر کسی آلے ، معاہدے یا اس کے کوئی تحریری ثبوت موجود ہیں۔
جاسوس سے نمٹنا

جولائی 2019 کے اوائل میں جیسن جی اور قطری سفارت کار نے معاہدہ کیا۔ جہاں انہوں نے "ڈائی زیٹ" کو ایک مفاہمت کی یادداشت میں بتایا کہ جیسن کو ایک سال کے لیے ایک مشیر کے طور پر ہر ماہ 10،000 یورو ملتے ہیں تاکہ قطر کے لیے جاسوسی کی وجہ سے اس کا تعاقب نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ معلومات کو دوسرے ممالک کے ساتھ شیر نہ کرنے کا عہد کیا۔

جیسن جے نے کہا کہ اس کے پاس قطر کے مسلح افواج اور قطری فوج سے رابطے میں رہنے والے ایک بااثر بریگیڈ اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے ہیں۔

جیسن کے نئے وکیل نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ معاہدہ موجود ہے اور ایک سال کے عرصے میں اسے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

کمیشن کے معاہدے

اگست 2019 میں جیسن جی نے یوروکوم کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کیا جسے اس کے سی ای او اناکر نے مکمل کیا تھا۔اس میں کہا گیا ہے کہ جیسن جی قطر کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

دستاویز میں یہ بھی شرط عائد کی گئی ہے کہ تمام معاملات جو "معاہدے کا حصہ ہیں" میں یوروکوم کو 20 فی صد کمیشن ملتاہے۔
اس کے علاوہ جیسن نے اطلاع دی کہ وہ اناکر سے باقاعدگی سے ملتا ہے اور اسے قطر کی ادائیگیوں میں نقد رقم میں اس کا حصہ دیاجاتا ہے۔ کچھ رسیدوں سے معلوم ہوا کہ قطری فوجی رکن نے صرف مارچ میں 15،000 یورو جیسن کو منتقل کردیے۔

دوسری طرف اناکر نے اس معاملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "جیسن جی" نے زبانی طور پر معلومات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک فی صد لیا۔ ان کا جیسن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

لیکن یہ دعوی درست نہیں لگتا۔ اخبار کے مطابق پہلے معاہدے کے چند ہفتوں کے بعد جیسن جی اور اناکر نے ایک دوسرا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی دستاویز بھی جرمن اخبار کو ملی۔ اس وقت یہ شرط رکھی گئی تھی کہ جیسن جی کے ممکنہ صارفین کے ساتھ وسیع رابطے اور تعلقات تھے۔ یوروکوم نئے ایجنٹوں میں دلچسپی رکھتی ہے۔