.

مصری پارلیمان نے لیبیا میں لڑاکا مشنوں کے لیے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی پارلیمان نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ملک سے باہر مسلح فوجیوں کو تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

مصری پارلیمان نے سوموار کو بند کمرے کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ایوان نمایندگان نے اتفاق رائے سے مصری مسلح افواج کے ارکان کو ملک کی سرحدوں سے باہر لڑاکا مشنوں کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ جرائم پیشہ مسلح ملیشیاؤں اور غیرملکی دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں مصر کی قومی سلامتی کا تحفظ کیا جاسکے۔‘‘

مصر کی لیبیا کے ساتھ طویل صحرائی سرحد ہے۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے لیبیا میں فوجی مداخلت کی دھمکی دے رکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ترکی کی حمایت یافتہ فورسز نے سرت شہر پر قبضے کی کوشش کی تو مصر فوجی مداخلت کرے گا۔

مصری صدر نے 20 جون کوکہا تھا کہ ان کے ملک کو لیبیا میں فوجی مداخلت کا قانونی حق حاصل ہے۔ انھوں نے فوج کو وقتِ ضرورت لیبیا میں فوجی کارروائیاں انجام دینے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔

صدر السیسی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’’مصر ہمیشہ سے لیبیا میں مداخلت پر متردد رہا ہے لیکن اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔‘‘ مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والی پارلیمان بھی صدر عبدالفتاح السیسی سے ملک میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ طرابلس میں وزیراعظم فائزالسراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت قائم ہے۔اس حکومت کے تحت فورسز کی مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت لیبی قومی فوج(ایل این اے) کے خلاف لڑائی ہے۔

لیبیا کے ان دونوں متحارب فریقوں اور ان کے اتحادی ممالک کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔مصر کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خلیفہ حفتر کے حامی ہیں جبکہ ترکی جی این اے کی حمایت کررہا ہے۔ واضح رہے کہ مصری صدر نے جون میں لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

مصری پارلیمان کی منظوری کی بعد اب صدر السیسی بیرون ملک فوجیوں کو تعینات کرسکیں گے اور اس طرح لیبیا میں پہلی مرتبہ مصر اور ترکی کے درمیان براہ راست مسلح ٹاکرے کا امکان بڑھ گیا ہے کیونکہ ترکی کے مسلح دستے اور تربیت یافتہ شامی جنگجو پہلے ہی لیبیا میں موجود ہیں اور قومی اتحاد کی فورسز کے شانہ بشانہ خلیفہ حفتر کی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

مصر عرب ممالک میں ترکی کی سیاسی اور فوجی مداخلت کا سخت مخالف ہے۔ مصری وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ’’عراق ، شام یا لیبیا سمیت کسی بھی عرب ملک میں ترکی کی دخل اندازی کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔اس کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے۔‘‘

قبل ازیں سوموار کو مصری صدرالسیسی نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اور ان پر واضح کیا تھا کہ مصر لیبیا میں سلامتی کو مزید بگڑنے سے بچانا چاہتا ہے۔ مصری ایوان صدر کے ترجمان کے جاری کردہ ا بیان کے مطابق دونوں لیڈروں نے لیبیا میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے سے اتفاق کیا ہے اور فوجی کشیدگی میں اضافے سے بچنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔