.

امریکا اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے ایرانی کے بارے میں نئے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے رواں سال جون میں اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے ایک شہری محمود موسوی مجد کو پکڑنے کے بعد اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا ہے۔ موسوی پر امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔ تھا۔ اس معاملے کی کئی گتھیاں ہیں جو سلجھنے میں نہیں آ رہی ہیں۔ بالخصوص اس حوالے سے کہ موسوی لبنان میں حزب اللہ تنظیم کے ہتھے چڑھا جس کے بعد اسے تہران کے حوالے کر دیا گیا۔

ایک ناقابل فہم بات یہ ہے کہ ایران نے ابتدا میں یہ اعلان کیا تھا کہ موسوی نے ایرانی پاسدران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی نقل و حرکت کا انکشاف کیا۔ بعد ازاں اس دعوے سے یوٹرن لیتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی کہ موسوی نے شام میں ایرانی گروپوں کی نقل و حرکت کے بارے میں جاسوسی کی تھی۔

اس سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ بعض مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ محمود موسوی مجد کے خلاف سزائے موت کے فیصلے پر عمل درامد ہو گیا۔ ایرانی عدلیہ کے ساتھ منسلک ویب سائٹ "ميزان آن لائن" کے مطابق موسوی کو آج پیر کی صبح موت کی نیند سلا دیا گیا تا کہ ملک کے ساتھ اس کی غداری کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے۔

اس سے قبل نیم سرکاری میڈیا میں گذشتہ روز ایک رپورٹ نشر کی گئی تھی جس میں نوجوان موسوی کی ایسی تصاویر اور وڈیو کلپوں کو شامل کیا گیا جن سے اس کی رنگین زندگی کا پتہ چلتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی انبار فارس کے مطابق موسوی لبنان میں اپنا زیادہ وقت نائٹ کلبوں میں گزارا کرتا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام کو حاصل ہونے والی تصاویر اور وڈیو کلپوں سے یہ انکشاف ہوا کہ موسوی اپنی ظاہری دین داری کے برعکس منشیات کا عادی اور شراب کا متوالا تھا۔

مذکورہ ایرانی خبر رساں ایجنسی نے واضح کیا کہ موسوی اپنے اعترافی بیانات میں یہ بتا چکا ہے کہ وہ سرگرمیوں سے بھرپور اس زندگی کا عاشق تھا اور اس زندگی نے اسے جاسوسی کے نیٹ ورکس تک پہنچانے میں بنیادی عامل کا کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق ملزم موسوی شام میں بعض ایرانی مشیروں کے لیے مترجم کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ یہاں اسے موقع مل گیا کہ وہ ماہانہ تنخواہ کے عوض امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کو معلومات فروخت کرے۔

یاد رہے کہ اس معاملے میں ایرانی ذمے داران کے بیانات میں بڑے پیمانے پر تضاد نظر آیا۔ پہلے عدلیہ کے ترجمان غلام حسين اسماعيلی نے اعلان کیا کہ موسوی ،،، قاسم سلیمانی کی نقل و حرکت کے انکشاف میں ملوث ہے۔ بعد ازاں ایرانی ذمے داران نے اس معلومات کی تردید کر دی۔ بالخصوص جب کہ یہ بات سامنے آئی کہ وہ سلیمانی کی ہلاکت سے قبل 2018ء سے گرفتار ہے۔

لہذا اس بات پر اکتفا کیا گیا کہ موسوی نے شام میں ایرانی فورسز کی نقل و حرکت کے بارے میں انکشاف کیا۔

گذشتہ ماہ جون کے وسط میں ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام خبر رساں ایجنسی "تسنيم" نے موسوی کے بارے میں ایک نئی کہانی بیان کی۔ ایجنسی کے مطابق موسوی کو لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کی جانب سے گرفتار کیا گیا اور پھر ایران کے حوالے کر دیا گیا۔

مزید برآں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ موسوی کا تعلق حزب اللہ کی نظر میں آیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق موسوی شام میں بعض ایرانی مشیران کے ساتھ رابطے میں تھا۔ تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بطور ڈرائیور کام کرتا تھا۔ اسی کام کے پردے میں اس نے اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس کو فراہم کی جانے والی معلومات اکٹھا کی۔ اس کے مقابل موسوی ماہانہ 5 ہزار ڈالر تنخواہ لیا کرتا تھا۔