.

شام کے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کے نئے ریکارڈ قائم

شکست خوردہ امیدواروں، عالمی اداروں اور امریکا کی غیرشفاف الیکشن پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایک بار پھر صدر بشارالاسد کی جماعت 'بعث پارٹی' کے من پسند امیدواروں نے نام نہاد پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے بین الاقوامی اداروں کو تنقید کا موقع فراہم کر دیا۔ شام میں ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں اسد رجیم کے مقربین کی کامیابی پر بین الاقوامی اداروں، مبصرین، شکست خوردہ ارکان پارلیمنٹ اور امریکا نے غیر شفاف اور دھاندلی زدہ انتخابات پر اسد رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکی انتظامیہ نے شامی حکومت کے حامیوں کی ایک وسیع تعداد کی گذشتہ اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں کامیابی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ الیکشن میں‌ کامیاب ہونے والوں میں بیشتر اسد رجیم کی مقرب شخصیات شامل ہیں۔ شام کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب جیمز جیفری نے شام میں حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے انتخاب میں مداخلت کی مذمت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج توقع کے مطابق ہیں۔ اسد رجیم کے برسراقتدار ہوتے ہوئے بعث پارٹی کے لوگوں کے علاوہ کسی اور کی جیت کا کوئی تصور نہیں۔

جیفری نے "سوا" ریڈیو کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پارلیمانی انتخابات کے لیے اسد کی تنظیم شامی عوام کے خلاف "ایک مکمل اور حقیر اشتعال انگیزی" ہے۔ انہوں‌نے انتخابات کو غیر شفاف اور دھاندلی زدہ قرار دیا۔

پیر کو ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے اسد کی جانب سے "غیرجانب دارانہ اور شفاف" انتخابات نہ کرانے پر تنقید کرتے ہوئے اس پورے انتخابی عمل کو "مشکوک" قرار دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی انتظامیہ کا اسد انتخابات کے بارے میں جائزہ قریبی شخصیات ، خاص طور پر ان لوگوں کے ذریعہ جاری کیا گیا تھا جو پارلیمانی انتخابات ہار گئے تھے۔ حلب خطے کی امیدوار سندس ماوردی نے اپنی انتخابی ہار کی تمام ذمہ داری بشارالاسد پرعاید کی اور کہا کہ اسد رجیم قوم سے جھوٹ بولنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ موجودہ امیدوار فارس الشہابی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں جو ہوا اس نے بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے نظام ، یا اخراج اور سزا کی اندھی اطاعت قرار دیا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ میں داخل ہونے والے کچھ لوگوں نے "اربوں کا چوری شدہ تیل" استعمال کیا۔

دوسری طرف اسد کی سکیورٹی فورسز نے پارلیمنٹ کے ایک نئے رکن پر تنقید کی پاداش میں صحافیہ لمیٰ توفیق عباس کو تفتیش کے لیے طلب کیا۔ لمیٰ عباس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر بدھ کے روز بتایا کہ دمشق گورنری سے نمائندہ عامر تیسیر خیتی نے ان کے خلاف جرم اور بدنامی کے الزامات مقدمہ دائر کیا ہے۔ لمیٰ نے ایک بیان میں بشارالاسد کے مقرب رکن پارلیمنٹ کو "دہشت گرد" اور "چور" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ترکی کی شہریت رکھتا ہے۔