.

ایرانی اپوزیشن کے افراد کی گرفتاری کے لیے تہران اور انقرہ کے درمیان رابطہ کاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ممالک اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی مذمت کے دباؤ کے تحت ایران نے گذشتہ اتوار کے روز تین نوجوانوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد کو معطل کر دیا۔ ان تینوں افراد پر گذشتہ برس نومبر میں عوامی مظاہروں میں شرکت کا الزام ہے۔

البتہ ایران نے اس بات پر روشنی نہیں ڈالی کہ امير حسين مرادی (26 سال)، سعيد تمجيدی (28 سال) اور محمد رجبی (26 سال) میں سے دو کو انقرہ نے تہران کے حوالے کیا تھا۔

ایرانی حکام کے ہاتھوں امیر حسین مرادی کی گرفتاری کے بعد اس کے بقیہ دونوں دوست سعید تمجیدی اور محمد رجبی ترکی فرار ہو گئے تھے۔ ان دونوں نے اقوام متحدہ سے تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم ترکی کے حکام نے انہیں گرفتار کر کے واپس ایران بھیج دیا۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران اور ترکی کے درمیان اس رابطہ کاری اور تعاون پر روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترکی اب ایرانی حزب اختلاف کے ارکان کے لیے سنگین خطرے کا ذریعہ بن چکا ہے جب کہ ماضی میں یہ لوگ ایرانی حکام کے تعاقب سے فرار ہو کر ترکی میں ہی پناہ لیتے تھے۔ ترکی کی جانب سے گرفتاریوں اور بے دخل کر کے ایران بھیجنے کی کارروائیوں نے ایرانی حکمراں نظام پر تنقید کرنے والوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔

برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ 2017ء میں ایرانی اپوزیشن کے کم از کم 7 ارکان کو ترکی سے بے دخل کیا گیا۔ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے جو کسی فرد کو بے دخل کر کے ایسے ملک بھیجنے سے روکتا ہے جہاں اسے جان کے خطرے یا تشدد کا سامنا ہو۔ یہ تمام لوگ ایرانی جیلوں میں ہیں۔ ترکی میں مزید 5 افراد گرفتار ہیں اور بے دخلی کے منتظر ہیں۔

ترکی سے مذکورہ افراد کی بے دخلی کی کارروائیوں میں جنوری 2017 سے اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ تہران اور انقرہ کے تعلقات میں مزید قربت پیدا ہونا ہے کیوں کہ شام میں ترکی، ایران اور روس باہمی تعاون انجام دے رہے ہیں۔ وہ آستانہ معاہدے کے ضامن ممالک ہیں۔ اس کے علاوہ تہران اور انقرہ کے درمیان دونوں ملکوں کی سرحدوں کے بیچ باغی کرد جماعتوں کے خلاف سیکورٹی کارروائیوں میں بھی تعاون کیا جا رہا ہے۔

سعید تمجیدی اور محمد رجبی اُن 33 ایرانیوں کے گروپ میں شامل تھے جن کو انطالیہ کی جیل سے ترکی اور ایران کی سرحدی گزر گاہ منتقل کیا گیا۔ یہ اقدام گذشتہ برس دسمبر میں ملائیشیا میں سربراہ اجلاس کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی کی اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کے بعد سامنے آیا تھا۔

دی ٹائمز اخبار کے مطابق مذکورہ دونوں نوجوانوں کو ترکی سے ایران بے دخل کیے جانے کے فوری بعد گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ یہاں انہیں منظم انداز سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بعد ازاں سرکاری ٹیلی وژن پر ان دونوں کے اعترافی بیانات نشر کیے گئے۔