.

ترکی کے بحری جہاز لیبیا کے نزدیک ، شامی اجرتی جنگجو یورپ فرار کی دُھن میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے بحیرہ روم میں نقل و حرکت اور یورپی ممالک کو اشتعال دلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورت حال نے لیبیا کی بری فوج اور بحریہ کو چوکنا کر دیا ہے۔

لیبیا کی بحریہ نے باور کرایا ہے کہ وہ لیبیا کے ساحل کے قریب آنے والے ترکی کے کسی بھی جہاز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل ترکی کے سمندری یونٹ بحیرہ روم کے مشرق میں کھدائی کی کارروائیوں کے لیے حرکت میں آئے تھے۔ اس اقدام کے سبب یورپی ممالک کی جانب سے تشویش اور اسے یکسر مسترد کیا جانا سامنے آیا۔ اس طرح بحیرہ روم کے مشرق میں قدرتی وسائل کی دولت کی ملکیت کے حوالے سے اختلافات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

لیبیا کی بحریہ کے سربراہ میجر جنرل فرج المہدوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی فوج لیبیا کے ساحل سے 100 کلو میٹر دور تک کسی بھی بحری جہاز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کے بحری یونٹ ان میزائلوں کا پہلا نشانہ ہیں جو کسی بھی بحری جہاز کو غرق کر دینے کی قدرت رکھنے کے حوالے سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔

ادھر لیبیا کی فوج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے اعلان کیا ہے کہ ترکی نے شامی اجرتی جنگجوؤں کے لیے بحیرہ روم کے راستے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کا چور راستہ کھول دیا ہے۔ بدھ کی شب بنغازی شہر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ راستہ طرابلس سے شروع ہو کر صبراتہ اور زوارہ سے ہو کر جاتا ہے۔ یہ علاقے انقرہ کی حمایت یافتہ وفاق حکومت کی ملیشیاؤں کے زیر کنٹرول ہیں۔ ترجمان نے کے مطابق گذشتہ ہفتے زوارہ اور صبراتہ سے تقریبا 1000 شامی اجرتی جنگجو یورپ کی سمت فرار ہوئے۔ یہ افراد اُن کشتیوں کے ذریعے فرار ہوئے جو ایک یورپی ملک نے لیبیا کے کوسٹ گارڈز کی سپورٹ کے لیے پیش کی تھیں۔

المساری نے سرت اور الجفرہ کے حوالے سے بتایا کہ دونوں شہروں کے محوروں کو حالیہ عرصے میں محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہتھیاروں، ریڈاروں اور فضائی دفاع کا نظام استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر لیبیا میں جارحیت کم کرنے اور فائر بندی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ گذشتہ روز ترکی اور روس نے فائر بندی کے حوالے سے ایک سمجھوتے تک پہنچنے کا اعلان کیا۔ تاہم ترکی کی جانب سے یہ اصرار ہے کہ سرت اور الجفرہ سے لیبیا کی فوج کا انخلاء عمل میں آئے۔