.

شام : ترکی نواز گروپوں کی جانب سے گھروں میں چوریوں کی وارداتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی شام میں ترکی کے ہمنوا شامی گروپوں کی جانب سے علاقے کے لوگوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ صورت حال گذشتہ برس کے اواخر میں ترکی کی جانب سے اس علاقے میں شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس آپریشن کا مقصد شمالی شام کے شہروں اور دیہات سے کرد فورسز کو بے دخل کرنا ہے۔

مذکورہ شامی گروپوں کی جانب سے اغوا اور گرفتاریوں کی کارستانیوں کے بعد اب گھروں میں داخل ہو کر چوری چکاری کی وارداتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ گروپ السلطان مراد نے شمالی مشرقی صوبے الحسکہ میں واقع دو دیہات لیلان اور الاربعین کے لوگوں کی بقیہ املاک چوری کر لیں۔ اس گروپ کے لوگوں کو فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں میں گھروں کا فرنیچر اور پانی کی ٹنکیاں منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں نے راس العین شہر میں گوداموں کا رخ کیا تا کہ بعد ازاں ان چیزوں کو چور بازار میں فروخت کیا جا سکے۔

ان گروپوں نے رواں ماہ 8 جولائی کو الحسکہ کے دیہی علاقے میں راس العین شہر کے مشرق میں واقع دو گاؤں تل محمد اور عنیق الہوی میں جبری ہجرت کا شکار شہریوں کے کئی گھروں میں آگ لگا دی تھی۔ اس وقت المرصد گروپ نے بتایا تھا کہ مذکورہ عناصر نے گھروں کی چیزوں کو چوری کیا اور پھر گھروں کو نذر آتش کر دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ترکی کے ہمنوا ان شامی گروپوں کے درمیان مال غنیمت کی تقسیم یا علاقوں پر کنٹرول کے سبب کئی اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔

راس العین اور تل ابیض کی مقامی آبادی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ مسابقت اور ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی خاطر ان گروپوں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

یاد رہے کہ انقرہ نے گذشتہ برس سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے علاقوں پر وسیع حملے کے بعد اکتوبر کے وسط میں راس العین اور تل ابیض کے شہروں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دونوں شہروں اور ان کے اطراف دیہات کے لاکھوں مقامی افراد ،،، عین العرب، منبج، الحسکہ، الرقہ اور القامشلی کے شہروں کی جانب جبری ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔