.

ایران میں شوگر کارکنان کے دھرنے کے 40 روز، امریکا کی خامنہ ای کی دولت کی یاد ہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جاری شوگر فیکٹری کے کارکنان کے مظاہروں کو 40 روز سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ لوگ اپنے سلب کیے گئے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی انتظامیہ نے ایک بار پھر ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی خطیر دولت کی یاد دہانی کرائی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے اکاؤنٹ پر فارسی زبان میں کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ "آج ہفت تپہ شوگر کین کمپنی کے کارکنان کی جانب سے معاشی مسائل کے خلاف احتجاج کا مسلسل 40 واں روز ہے. کارکنان پر مسلط یہ مصائب کمپنی کی نئی انتظامیہ نے حکومت کی ضمنی موافقت سے مسلط کیے ہیں، وہ حکومت جو ایرانیوں کی دولت لُوٹ رہی ہے"۔

ٹویٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "خامنہ ای اور ان کے اطراف موجود شخصیات بہت زیادہ دولت کے مالک ہیں تاہم وہ ایرانی عوام کی مدد کے بجائے اپنے شدت پسندانہ نظریے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں .. اور ہفت تپہ شوگر کین کمپنی اس بات کی واضح مثال ہے کہ ایرانیوں پر حکمراں نظام کا نظریہ کس طرح مسلط کیا جا رہا ہے"۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ایسے میں جب کہ ذلت کو مسترد کرنے والے یہ افراد چلّا رہے ہیں، لگتا یہ ہے کہ حکمراں نظام اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ ایرانی عوام غربت اور محتاجی کا شکار رہیں۔

ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں گذشتہ ماہ سے سیکڑوں کارکنان نے مسلسل دھرنا دے رکھا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ واجبات کی ادائیگی کی جائے اور ہفت تپہ شوگر کین کمپنی سے نکالے گئے کارکنان کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ دھرنا دینے والے مظاہرین کا نعرہ ہے کہ "ہم مر جائیں گے مگر ذلت کے آگے نہیں جھکیں گے"۔

کارکنان یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کمپنی کو نجی سیکٹر سے نکال لیا جائے، برطرف کارکنان کو واپس لایا جائے، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا جائے اور مؤخر تنخواہوں اور انشورنس کی قسطوں کی ادائیگی کی جائے۔