.

شام اور اسرائیل کے درمیان ہائی الرٹ کی صورت حال، حزب اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے جمعے کے روز شام اور حزب اللہ کا نام لیے بغیر انہیں خبردار کیا ہے۔ گینٹز کا کہنا تھا کہ "میں اپنے دشمنوں کو نصیحت کروں گا کہ ہمیں نہ آزمائیں"۔

اس کے بعد فورا ہی جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے شام کے صوبے القنیطرہ میں فضائی حملے کر دیے۔ یہ کارروائی جمعے کو سابقہ اوقات میں مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کی سمت داغے گئے مارٹر گولوں کے جواب میں کی گئی۔

اس وقت شام ، لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر ہائی الرٹ کی صورت حال ہے۔ پیر کے روز شامی دارالحکومت دمشق کے جنوب میں اسرائیلی میزائل حملے میں ایرانی ملیشیاؤں کے پانچ جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ بات شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بتائی۔ بعد ازاں شامی حکومت کی ایران نواز حلیف لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں اس کا ایک جنگجو شامل ہے۔

اس منظر نامے میں حزب اللہ جوابی کارروائی کے حوالے سے خود کو مشکل صورت حال میں پا رہی ہے۔ بالخصوص جب کہ تنظیم کو بین الاقوامی پابندیوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔ لبنان کو بھی غیر معمولی نوعیت کا اقتصادی بحران درپیش ہے جس کی مثال حالیہ برسوں میں نہیں ملتی۔ ایسے میں حزب اللہ کی جانب سے کوئی بھی نئی مہم جوئی لبنان کے اندر غیض و غضب کو جنم دے سکتی ہے۔

اس سلسلے میں عسکری اور تزویراتی تجزیہ کار میجر جنرل خالد حمادہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی نقل و حرکت تنظیم کے انتہائی خبردار رہنے کے سلسلے میں ہے۔ جنوبی لبنان ایک معرکے کا میدان بن سکتا ہے جہاں حزب اللہ پر 'غیر روایتی' نوعیت کی عسکری " ضرب لگائی جا سکتی ہے۔ یہ 2006ء کی جنگ سے ملتی جلتی نہیں ہو گی بلکہ یہ بین الاقوامی استحکام کی ایک نئی مساوات کا آغاز بن سکتی ہے"۔

اس دوران حزب اللہ کی فضاؤں سے مطلع لبنانی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایران نواز ملیشیا اسرائیلی فوج کے آخری حملے کا جواب دینے کے لیے مکان و زمان کے حوالے سے "حیرانی کے عنصر" کا سہارا لے گی۔

خالد حمادہ کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے ترجیحا شیعہ اور پھر لبنانی عصبیت پر مبنی عسکری چال اس بار ہر گز کامیاب نہ ہو سکے گی کیوں کہ یورپ اور بین الاقوامی سطح پر یہ بات مانی جا چکی ہے کہ حزب اللہ کا علاقائی کردار ،،، لبنان کے استحکام کی راہ میں ٹھوکر ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 2011 سے اب تک شام پر سیکڑوں حملے کیے ہیں۔ ان کارروائیوں میں شامی حکومت کی فوج ، ایران کے زیر انتظام فورسز اور بشار کی حلیف لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز اعلان میں بتایا کہ وہ شمالی سرحد کے نزدیک اپنی عسکری کمک کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ اقدام حزب اللہ کی جانب سے انتقام کی دھمکیوں کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

جمعے کے روز سرحد پر مزید اضافی کمک پہنچانے کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق دشمن کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے اندیشے کے سبب فورسز کے الرٹ رہنے کی سطح کو بلند کر دیا گیا ہے۔ بیان میں حزب اللہ کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ اسرائیلی فوج لبنان سے کی جانے والی تمام کارروائیوں کا ذمے دار لبنانی حکومت کو ٹھہراتی ہے۔