.

صہیونی فوج اور حزب اللہ کےلبنان ،اسرائیل سرحد کے نزدیک ایک دوسرے پرحملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں صہیونی فوج کے خلاف ایک کارروائی کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے سوموار کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے ساتھ واقع شمالی سرحد پر’’ سکیورٹی کا ایک واقعہ‘‘ رونما ہوا ہے۔اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے مطابق فوج کا ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے ساتھ گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔

اسرائیل کے این 12 ٹی وی نے بتایا ہے کہ فوج نے حزب اللہ کا ایک حملہ ناکام بنا دیا ہے اور اسرائیلی فوج نے علاقے کے مکینوں کو اپنے گھروں ہی میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔فوری طور پر کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ حزب اللہ نے شبعا فارمز(مزارع) کے متنازع علاقے میں درجنوں گولے داغے ہیں اور وہ اسرائیل کے ایک ٹھکانے کے نزدیک گرے ہیں۔اس کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی اور دھواں بلند ہورہا تھا۔

ایک لبنانی ذریعے کے مطابق حزب اللہ نے یہ حملہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں اپنے ایک جنگجو کی ہلاکت کے ردعمل میں کیا ہے۔شیعہ ملیشیا کا یہ جنگجو گذشتہ سوموار کو اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس واقعے کی رپورٹس منظرعام پر آنے سے چندے قبل کہا کہ’’لبنانی سرزمین سے کسی بھی حملے کے لبنان اور حزب اللہ ذمے دار ہوں گے۔‘‘

اسرائیل شام میں حزب اللہ اور اس کے اتحادی ایران کی موجودگی کو اپنے لیے ایک تزویراتی خطرہ خیال کرتا ہے اور اس نے شام میں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے ان دونوں کے ٹھکانوں اور جنگجوؤں پر سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔

ان فضائی حملوں کے ردعمل میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ ان کی ملیشیا شام میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں اپنے کسی بھی جنگجو کی ہلاکت کا بدلہ لے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوب میں واقع حزب اللہ کے میڈیا دفاتر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا تھا۔