.

کرونا ماسک پہننے کی پابندی مردوں کو نہیں صرف خواتین کو کرنی چاہیے: ایرانی مذہبی رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما اور طلب اسلامی کے ایک مشہور حکیم علامہ عباس تبریزیان نے کہا ہے کہ طبی نقطہ نظر سے کرونا ماسک پہننے کی پابندی صرف خواتین کو کرنی چاہیے۔ مردوں کے لیے پابندی کے ساتھ طویل وقت تک ماسک پہننے رکھنا ان کی صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔

آیت اللہ عباس تبریزیان نے انسٹا گرام پر اپنے چینل پر لوڈ کی گئی ویڈیو میں کہا کہ مردوں کی ذمہ داری گھر کے اخراجات پوری کرنا ہوتی ہے۔ اس لیے مردوں کو کام کاج کے لیے گھروں سے باہر جانا پڑتا ہے۔ اگر مرد دن بھر اپنا منہ ماسک سے ڈھانیں گے تو اس کے نتیجے میں ماسک اور منہ کے درمیان کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جمع ہونے سے ان کے لیے صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ طریقہ کار فوائد کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ شرعی اعتبار سے بھی ایسا کوئی کام جو صحت کے لیے مضر ثابت ہو اختیار کرنا مکروہ ہے۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ چونکہ خواتین عموما معاشی سرگرمیوں میں کم حصہ لیتی ہیں اور زیادہ وقت گھروں میں رہتی ہیں لہذا گھر سے باہر خواتین کو ماسک استعمال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ان کے لیے ضروری ہے۔ علامہ صاحب نے اپنی عجیب منطق کا ایک اور پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہوا کے ذریعے کرونا وائرس ایک مرد سے دوسرے مرد تک منتقل نہیں ہوتا بلکہ یہ بیماری خواتین کے ذریعےدوسری خواتین کو لگ سکتی ہے۔

تبریزین جو نجف اور قم کے دو مذہبی اسکولوں کے فارغ التحصیل ہیں کا کہنا ہے کہ ماسک پہننا صرف خواتین کے لیے ضروری ہے۔مردوں کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

گذشتہ نومبر میں روایتی ادویات کا ایک مرکز چلانے والے آیت اللہ عباس تبریزین نے اپنے متعدد حامیوں اور طلباء کے ایک گروپ کی موجودگی میں 'Harrison's Principles of Internal Medicine' کو نذرآتش کردیا تھا۔اس پرانہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔