.

'سلام' کے زیراہتمام تہذیبوں میں رابطوں کے فروغ میں سعودی طلبا کلب کے کردار پر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیس پروجیکٹ برائے تہذیبی مواصلات "سلام" کے زیراہتمام ہفتے کےروز سعودی عرب میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں بیرون ملک سعودی طلباء کلبوں کے متعدد سربراہان اور بانیوں نے تہذیبوں کے درمیان باہمی رابطے کے لیے طلبا کلبوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔

یہ اجلاس بصری مواصلاتی پلیٹ فارم کے ذریعہ "سعودی اسٹوڈنٹ کلب اور تہذیبی مواصلات کے فروغ" کے عنوان سے منعقد ہوا۔ اجلاس میں وسطی فلوریڈا یونیورسٹی میں سعودی کلب کی صدر رانیہ اسامہ عید ،آسٹریلیا کے برزبن شہر میں سعودی کلب کی صدر فارس رافع الرویلی،ٹو میں سعودی طلباء کلب کے بانی محی الشھری اور اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں سعودی کلب کے سربراہ ڈاکٹر محمد العبیدی نے شرکت کی۔

اس اجلاس کا افتتاح سلام پروجیکٹ برائے تہذیبی مواصلات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فہد بن سلطان آل سلطان کےخطاب سے کیا گیا۔ اس میں انہوں نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور تہذیبی رابطوں کے فروغ کے میدان میں سعودی عرب کے طلبا او ان کے نمائندہ کلبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں‌نے کہا کہ دنیا بھر میں‌سعودی عرب کے طلبا مملکت کے سفیر ہیں اور وہ ملک کے امیج کو زیادہ بہتر انداز میں پیش کرکے ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی وزارت تعلیم پر زور دیاکہ وہ اسکالر شپ پر بیرون ملک تعلیم کے سفر کرنے والے طلبا اور ان کے کلبوں کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے تاکہ طلبا وطالبات اپنی تعلیم پر توجہ دینے کے ساتھ مختلف معاشروں کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے فروغ میں‌بھی اہم کردار ادا کرسکیں۔

اجلاس میں مقررین نے طلباء کلبوں کے بیرون ملک اہداف پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ کلبوں نے مملکت کی ثقافت اور اس کی تہذیبی کامیابیوں کو متعارف کرانے کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ طلبا بیرون ملک دوسری تہذیبوں کے درمیان رابطوں‌کے لیے پُل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ورچوئل اجلاس میں ، ثقافتی ، انسانی اور معاشرتی شعبوں میں ذمہ داریوں سے متعلق سعودی طلباء کی کوششوں اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا جس کا مقصد سعودی عرب اور دنیا کے عوام کے مابین تہذیبی مواصلات کو فروغ دینا ہے۔

"امن برائے تہذیبی رابطہ کاری پروجیکٹ"سلام سعودیوں اور دوسری اقوام کے مابین کھلی تہذیبی مواصلات اور مثبت خیالات دوسروں تک پہنچانے کا ایک پلیت فارم ہے جس کا مقصد تہذیبی ہم آہنگی قائم کرنا اور مذہبی منافرت کے جذبات کی بیخ کنی کرنا ہے۔