.

یمن کے حوالے سے محمود احمدی نژاد کا سعودی ولی عہد کے نام خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمد احمدی نژاد نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو ایک خط بھیجا ہے جس میں یمن کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ خط میں احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وہ ایک کمیٹی کے ذریعے وساطت کار کا کردار ادا کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس کمیٹی میں عالمی سطح پر قابل اعتماد شخصیات شامل ہوں تا کہ یمن کا بحران ختم کرانے کے لیے متحارب فریقین کے ساتھ بات چیت کی جا سکے۔

سابق صدر کے مطابق مسابقت اور علاقائی اور غیر علاقائی مداخلتوں کے سبب بھڑکنے والی جنگ پانچ برس سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ اب تک لاکھوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی سامنے آئی ہے۔ یہ بات کسی پر چھپی ہوئی نہیں کہ یہ جنگ جتنی طویل ہو گی اتنی ہی تباہی اور بے قصور افراد کی ہلاکت کا ذریعہ بنے گی۔ اس میں کسی فریق کو کامیابی حاصل نہیں ہو گی اور آخرکار تمام لوگ نقصان سے دوچار ہوں گے اور عوام کی جانب سے مذمت کا شکار ہوں گے۔

احمدی نژاد کا مزید کہنا تھا کہ "ایک طرف میں جانتا ہوں کہ موجودہ صورت حال آپ لوگوں کے لیے خوشی کا باعث نہیں .. روزانہ کی بنیاد پر بے قصور افراد کا اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا اور ملک (یمن) کے انفرا اسٹرکچر کا تباہ ہونا آپ لوگوں کے لیے رنجیدگی کا سبب ہو گا .. اس لیے کہ خطے کے عوام کے وسائل تعمیر نو اور امن و استحکام کے واسطے استعمال ہونے کے بجائے تباہی اور بربادی میں کام آ رہے ہیں۔ اسی واسطے آپ لوگ ایک منصفانہ امن کے خواہاں ہیں"۔

سابق ایرانی صدر نے باور کرایا کہ "دوسری جانب مجھے اس بات کا پورا بھروسہ ہے کہ آپ کے تعمیری تعاون سے ہم ایسے مؤثر منصوبے لاگو کر سکتے ہیں جن کا مقصد موجودہ صورت حال پر روک لگانا اور جنگ و جدل کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اس بھڑکی ہوئی جنگ پر خرچ ہونے والی خطیر رقم ،،، ایک علاقائی مشترکہ عملی منصوبے کے ذریعے تعمیر نو پر لگائی جائے تو لوگوں کے اندر سے خوف، غربت اور موت کا رقص دور کیا جا سکتا ہے ، ان لوگوں کو امن اور اخوت کے سائے میں باعزت اور اچھی زندگی میسر آ سکتی ہے"۔

احمدی نژاد کے مطابق یہ انسانی ذمے داری سب پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس جنگ کے خاتمے کی خاطر کوشش کریں اور امن، دوستی اور تعاون کو یقینی بنائیں۔

سابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ "میں انسانی برادری کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے آپ کی اور عبدالملک بدرالدین (حوثیوں کا سرغنہ) کی موافقت سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے لیے تیار ہوں۔ اس کمیٹی میں عالمی سطح پر متعدد قابل اعتماد شخصیات شامل ہوں تا کہ متحارب فریقین کے ساتھ بات چیت کی جا سکے۔ اس کا مقصد بحران کا خاتمہ کرنا اور امن و دوستی کو ممکن بنانا ہے"۔

احمدی نژاد نے خط کے اختتام پر کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ خطے کے عوام اور انسانی برادری کے واسطے آپ ایسا کام کر گزریں گے جس کے بعد آپ کو خیر کے ساتھ یاد کیا جاتا رہے گا"۔

ایران کے سابق صدر نے اس تحریری خط کی ایک نقل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو بھی ارسال کی ہے۔