.

قطری فنڈنگ سے جرمنی میں اخوان کے بڑھتے اثرونفوذ پر جرمن اخبار کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے موقر اخبار نے خبر دار کیا ہےکہ قطر کی فنڈنگ سے جرمنی میں اسلامی انتہا پسندی، اخوان المسلمون کی سرگرمیوں میں اضافہ اور اسلامی ریاست کا قیام شدت پسندوں کا اہم ہدف ہے۔

اخبار "اسٹٹ گارٹ زیتونگ" نے مشیل ویسنورن کی ایک رپورٹ میں رپورٹ میں کہا ہے کہ جرمنی میں اسلامی انتہا پسندی کے بڑھتے رحجان کے پیچھے قطر کی مالی معاونت اور خوان کی مذہی سرگرمیاں ہیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق جرمن دستور کے تحفظ کے وفاقی دفتر نے "جرمنی میں اخوان المسلمون کی مستقل ترقی" کا حوالہ دیا ہے۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جرمنی میں اخوان المسلمون کے ایک ہزار سے زیادہ پیروکار ہیں۔ "تنظیموں اور مساجد کی تین ہندسوں کی تعداد" کو اخوان کے خفیہ نیٹ ورک سے منسوب کیا گیا ہے۔

ممالک میں آئینی تحفظ کے دفاتر نے اخوان المسلمون کو دہشت گردوں سے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔ بیڈن وورٹمبرگ آئینی تحفظ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اخوان نے طاقت کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اداروں میں گھس کر اس نے اپنا نیٹ ورک مضبوط بنایا۔ اس لیے ان کی سرگرمیوں کو جاننا مشکل ہوتا ہے۔

تنظیم بنیادی طور پر اشرافیہ پر انحصار کرتی ہے۔ یہاں ایک مسئلہ درپیش ہے کہ اخوان المسلمون خاص طور پر تربیت یافتہ افراد اپنے گرد جمع کر رہی ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ زیرزمین اخوان المسلمون کے حامی سیاستدانوں ، انتظامیہ اور سماجی کارکنوں ، گرجا گھروں کی نگاہ میں سنجیدہ اور قابل اعتماد ہیں۔

کرسچن ڈیموکریٹس میں انضمام کی سیاست برگول اکبینر سے مطالبہ کرتی ہے ہر قیمت پر انتہا پسندوں سے بات چیت کرنے کے بجائے انہیں قانون کی حکمرانی کے ذریعے نکیل ڈالنا ہوگی۔ ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے اور بیرون ملک سے ان کی مالی معاونت ختم کرنا چاہیئے۔ سیاسی اسلام کے ماہر سگریڈ ہرمین - مارشل نے متنبہ کیا ہے جو لوگ معاشرے کے خلاف کام کرتے ہیں وہ اکثریتی عوام سے نفرت کا برملا اظہار نہیں کرتے بلکہ عوام کی ہمدریاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کرسچن چیسنٹ اور جارج ملبرونو کی کتاب "قطر پیپرز" کے مطابق قطر نے قطر چیریٹی ایڈ کے ذریعہ اخوان المسلمون کے تقریبا 72 ملین یورو کے لگ بھگ 140 مسلم مساجد اور مراکز کو مالی امداد فراہم کی ہے۔ یہ رقم جرمنی میں بھی دی گئی۔ جرمن اخبار "اسٹٹ گارٹ زیتونگ" کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اسٹٹگارٹ اور الم کی مساجد نے بھی مالی امداد کی درخواست کی لیکن برلن میں قطری سفیر محمد جاہم الکواری نے شدت پسندوں کو کسی قسم کی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔