.

امریکی ڈیموکریٹس کا موقف ایران کے مفاد میں ہے: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلیکن پارٹی کے موقف کے برعکس ڈیموکریٹک پارٹی کے رہ نمائوں کی جانب سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی مخالفت میں سامنے آنے والے بیان پر ایرانی عہدیدار بغلیں بجا رہے ہیں اور ڈیموکریٹس کے اس موقف کو ری پبلیکنز کے خلاف ایک پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ایرانی حکومت کے ترجمان نے امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی پارٹی کی تعریف کی اور کہا کہ آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں پارٹی کے منصوبے کو ایران کو سمجھنے کے لیے ایک مثبت منصوبہ قرار دیا سکتا ہے۔

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کردہ ایک پروگرام میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کو ایک سیاسی آپشن کے طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سنہ 2015 کو طے پائے جوہری معاہدے پر امریکا کی واپسی کا خیال پیش کیا گیا تھا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018 میں دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکی انتظامیہ ایک طویل عرصے سے سماعت اور بینائی سے محروم ہو چکی ہے۔ امریکی انتظامیہ اپنے ہی ماہرین کی آرا سننے کے قابل نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ایران کے بارے میں حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔

انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ ایران پر زیادہ دباؤ کی پالیسی ناکام ہوگئی ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ اب بھی امریکی صدر کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔ پومپیو اپنے صدر کو دھوکہ دینے کے لئے پرعزم ہیں اور جان بولٹن نے ایک سال پہلے یہی کیا تھا ۔ ہمیں سننے میں کوئی جلدی نہیں ہے۔ امریکا شکست کا اعتراف کرتا ہے کیونکہ جب تک وہ چاہتے ہیں غلط راستہ اختیار کرسکتے ہیں اور امریکا کو تنہائی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

ایران کی حکومت کے ترجمان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پروگرام سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کو ترک کرنے پر زور دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں یہ ایران کی حقیقت کو سمجھنے میں ایک چھوٹا لیکن مثبت اقدام ہے لیکن اس کے اب بھی عزائم ہیں۔ ہم عام طور پر کاغذ پر لکھے گئے جملوں کی پرواہ نہیں کرتے ہیں بلکہ ، ہم عملی اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں جس کا مقصد ماضی کی غلطیوں کی اصلاح اور تلافی کرنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ متعدد ڈیموکریٹس ماہرین اور آئندہ امریکی صدارتی انتخابات کے لئے ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے صدارتی انتخابات کے لیے پارٹی کا 80 صفحات پر مشتمل منشور جاری کیا ہے جس میں ایران میں جوہری معاہدے اور حکومت کے بارے میں پوزیشن سمیت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر امریکی پالیسیوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔