.

لبنانی وزیر اعظم کی ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان برپا کر دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر اعظم حسان دیاب کی جانب سے منگل کے روز کی جانے والی ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر لبنانی حلقوں کی جانب سے تنقید کا دروازہ کھول دیا۔ بعد ازاں دیاب نے اپنی اس ٹویٹ کو حذف کر دیا۔

لبنانی حکومت کے سربراہ نے ملک میں امن و امان کی صورت حال پر اپنے شکوے کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ "ملک کو غیر معمولی نوعیت کے چیلنجوں کا سامنا ہے، سیکورٹی مراکز پر حملے ہو رہے ہیں گویا کہ معاملات کنٹرول سے باہر ہیں ... سیکورٹی ادارے کہاں ہیں ، عدلیہ کہاں ہے ... ریاست کی رٹ قائم کرنے میں ان کا کیا کردار ہے ؟" ...

سوشل میڈیا پر بہت سے لبنانی صارفین نے وزیر اعظم حسان دیاب کے سوالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کس سے شکایت کر رہے ہیں ... آپ خود ہی تو ریاست اور حکومت ہیں .. اگر آپ خود ہی شاکی ہیں تو پھر بے چارے عوام کس سے شکایت کریں گے ؟!".

بعض دیگر افراد نے جن میں ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی شخصیات شامل ہیں ،،، لبنانی وزیر اعظم پر زور دیا کہ اگر وہ اس حد تک قاصر ہو چکے ہیں تو پھر انہیں رخصت ہو جانا چاہیے۔

ایک تبصرے میں لکھا گیا "نوجوانو ! وزیر اعظم سیکورٹی اداروں، عدلیہ اور ریاست کی رٹ کو کھو بیٹھے ہیں ،،، براہ مہربانی جس کسی کو یہ چیزیں ملیں وہ واپس لوٹا دے!"۔

لبنان کو اس وقت اپنی جدید تاریخ کے بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ بالخصوص جب کہ لبنانی لیرہ امریکی ڈالر کے مقابلے 80 فی صد سے زیادہ قدر کھو چکا ہے۔ اس صورت حال نے عوام کی قوت خرید کو نگل لیا ہے۔

ملک میں کئی علاقے بجلی عدم فراہمی کے سبب اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایندھن کا بحران بھی سر اٹھا رہا ہے جب کہ سڑکوں پر پھر سے کچرے اور گندگی کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔

لبنان کی تقریبا نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگ مجبور ہو کر سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی کپڑوں اور دیگر اشیاء کے مقابل اپنے بچوں کے واسطے دودھ کے ڈبے اور پیمپرز کے پیک طلب کر رہے ہیں۔