.

بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب راکٹ حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کل جمعرات کی شام دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی فضائی اڈے کے قریب دو الگ الگ مقامات پر راکٹ گرے تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

عراقی فوج کے میڈیا سیل کے مطابق جمعرات کو 'کاتیوشا' طرز کےدو راکٹ بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب الرضوانہ کے مقام پر گرے تاہم ان حملوں میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی گروپ نے ابھی تک ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ خیال رہے کہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فوجیوں کے دستے بھی موجود ہیں۔

قبل ازیں گذشتہ سوموار کو شمالی بغداد میں امریکا کے التاجی فوجی اڈے پر راکٹ حملے کیے گئے تھے۔ سوموار کے روز التاجی فوجی اڈے پر تین کاتیوشا راکٹ گرائے گئے تھے۔

عراق سیکیورٹی فورسز کے مطابق تینوں راکٹ التاجی فوجی اڈے کے اس حصے میں گرے جہاں عراقی فوج تعینات ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں 'داعش' کے خلاف کارروائیوں کے لیے 5000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ فوجی داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں۔

رواں سال تین جنوری کو ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد بغداد میں امریکی فوج کی تنصیبات اور امریکی سفارت خانے پر بار بار حملے کئے جاتے رہے ہیں۔ مبصرین اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بغداد میں ہونےوالے حملوں کے پیچھے ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپوں کا ہاتھ ہے۔