.

عراق کے شمال میں دہوک کے نزدیک ترکی کے لڑاکا طیاروں کی بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے جمعے کی شب عراقی کردستان کے صوبے دہوک کے شمال میں واقع گاؤں کربلی کے اطراف دو فضائی حملے کیے۔

مقامی ذمے دار نے کہا کہ نشانہ بنائے گئے علاقے تک رسائی میں دشواری کے سبب ترکی کی بم باری کے نتیجے میں واقع نقصان کو جاننے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

گذشتہ ماہ جون کے وسط سے انقرہ نے کردستان ریجن میں سرحدی علاقوں پر بم باری میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسی طرح ترکی کی زمینی فوج بھی مذکورہ علاقے میں داخل ہو گئی۔ ان کارروائیوں کے سبب جانی اور مادی نقصان واقع ہوا۔

مانکیشک سب ڈسٹرکٹ کے سربراہ افاد مشتاق نے خبر رساں ایجنسی "شفق نيوز" کو بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے جمعے کی شام دہوک صوبے کے شمال میں کربلی گاؤں کے اطراف وادی شگفتگی پر یکے بعد دیگرے دو حملے فضائی حملے کیے۔ سربراہ کے مطابق اس علاقے میں کردستان ورکرز پارٹی کے عناصر موجود ہیں۔

مشتاق نے مزید بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ترکی کے لڑاکا طیاروں نے کربلی گاؤں کے اطراف بم باری کی ہے۔ اس گاؤں میں متعدد گھرانے بستے ہیں اور یہ صوبے کے مرکز سے صرف 50 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ ان کارروائیوں میں انقرہ مخالف کردستان ورکرز پارٹی کے عناصر کو نشانہ بنا رہا ہے۔

اس بم باری کے نتیجے میں عراقی کردستان ریجن کی حکومت کی جانب سے شدید مذمت سامنے آئی ہے۔ مذکورہ حکومت نے کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ تناؤ اور کشیدگی سے گریز کے لیے علاقے سے کوچ کر جائیں۔

اسی طرح بغداد حکومت نے بھی ترکی کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ اس دوران عراق میں ترکی کے سفیر کو طلب کر کے دو بار شدید لہجے کی حامل احتجاجی یادداشت پیش کی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے ترکی کی سرحد کے ساتھ دہوک صوبے میں کئی مقامات پر سرحدی محافظین کے دستوں کو تعینات کر دیا ہے۔