.

قطر اور ترکی نے شام میں دہشت گردی کی سپورٹ کی: سویڈش ویب سائٹ رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں شدت پسندوں کے لیے قطر کی سپورٹ کا انکشاف ہوا ہے جو ترکی کے ذریعے عمل میں آئی۔ اس کے علاوہ انقرہ حکومت داعش تنظیم سے تیل خریدنے کے عمل میں بھی ملوث رہی ہے۔ یہ انکشافات ترکی کے ایک سینئر فوجی افسر کے قتل کے مقدمے سے متعلق عدالتی دستاویزات میں سامنے آئے ہیں۔

سویڈن کی نورڈک مانیٹر ویب سائٹ کے مطابق اسے مذکورہ دستاویزات کی ایک کاپی حاصل ہوئی ہے۔ ان دستاویزات میں کرنل فرات الاکوش کے اعترافی بیانات شامل ہیں۔ الاکوش ترکی کی اسپیشل فورسز کی کمان میں انٹیلی جنس کے شعبے میں کام کرتا تھا۔ الاکوش کے یہ اعترافی بیانات گذشتہ برس انقرہ میں ایک فوجداری عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران سامنے آئے تھے۔ یہ سماعت ترکی کے سینئر فوجی افسر جنرل سمیح ترزی کی ہلاکت سے متعلق مقدمے کے سلسلے میں منعقد ہوئی۔

کرنل الاکوش نے انکشاف کیا تھا کہ ترکی کے انٹیلی جنس کے ساتھ خفیہ طور پر کام کرنے والے لیفٹننٹ جنرل زیکائے اکسکالی نے جنرل سمیح ترزی کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس لیے کہ جنرل ترزی کو قطر کی جانب سے اس فنڈنگ کے حجم کا علم تھا جو دوحہ نے شام میں دہشت گردوں کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود خریدنے کے واسطے ترکی کو پیش کی تھی۔ علاوہ ازیں جنرل ترزی کو ان مالی رقوم کے حجم کے بارے میں بھی معلوم تھا جو مذکورہ دہشت گرد جماعتوں کے حوالے کی گئیں اور وہ رقم جس کا ترک ذمے داران نے غبن کیا۔

ان دستاویزات کے مطابق جنرل ترزی کو ترکی کی حکومت کے ان عہدے داران کے ناموں کا بھی علم تھا جو شام میں داعش تنظیم سے تیل کی اسمگلنگ میں ملوث رہے۔

اسی طرح جنرل ترزی کو ترکی کے بعض حکومتی ذمے داران کی سرگرمیوں کا بھی علم تھا جو شدت پسند جماعتوں کے سینئر کمانڈروں کو علاج کے واسطے ترکے لے کر آئے۔ اس کے مقابل مذکورہ ذمے داران نے ان جماعتوں سے بھاری رشوتیں وصول کیں۔

الاکوش نے عدالتی سماعت کے دوران انکشاف کیا تھا کہ جنرل ترزی کو اُن رقوم کے خفیہ پہلوؤں کا علم تھا جو عراق اور شام میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی نگرانی میں پانی کی طرح لُٹائی گئیں۔