.

ترکی، لیبیا میں‌ لڑائی کے لیے 17 ہزار اجرتی جنگجو طرابلس بھیج چکا: آبزرویٹری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے سیرئن آبزر ویٹری نامی مانیٹرنگ گروپ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی جانب سے شامی جنگجوؤں‌ کو لیبیا کے محاذ پر بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی گذشتہ چند ماہ کے دوران 18 سال سے کم عمر کے 350 بچوں سمیت 17 ہزار جنگجو طرابلس بھیج چکا ہے۔

شامی آبزرویٹری کے بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ انقرہ، طرابلس میں‌ اپنی وفادار قومی حکومت کی مدد کے لیے بڑی تعداد میں شامی جنگجو بھیج رہا ہے۔ ترکی اور شام میں ان جنگجوؤں کو عسکری تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ لیبیا پہنچنے والے اجرتی قاتلوں‌ کی تعداد دس ہزار سے زاید ہے جن میں 2500 کا تعلق تونس سے ہے۔

شامی آبزرویٹری نے انکشاف کیا کہ شامی اور دوسرے چھ ہزار غیر ملکی اجرتی جنگجو لیبیا میں لڑائی کے کنٹریکٹ کے خاتمے کے بعد واپس پہنچے ہیں۔

داریں اثنا لیبیا کی خود ساختہ نیشنل آرمی میں شعبہ اخلاقیات سربراہ بریگیڈیئر خالد المحجوب نے ہفتے کے روز کہا کہ لیبیائی فوج ملک میں کی ترکی کی بھی پیش قدمی کا بھرپور جواب دے گی۔

انہوں نے جنگ بندی کے لیے قاہرہ فارمولے، اقوام متحدہ کی طرف سے جنگ بندی کی اپیل پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ترکی قومی حکومت ترکی کی مدد سے جنگ بندی کے بجائے جارحیت پر اتر آئی ہے۔