.

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقری قالیباف پر اربوں‌ڈالر کی کرپشن کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور تہران کے سابق میئر محمد باقر قالیباف پر اربوں ڈالر کی کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے رکن محمود میر لوحی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ محمد باقر قالیباف نے تہران کے میئر کے عہدے کے دوران اربوں ڈالر کی کرپشن کی۔ ان کے خلاف کرپشن کے2 ہزار سے زیادہ واقعات موجود ہیں‌ جن کے مطابق ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اصلاح‌ پسندوں کےقریب سمجھے جانےوالے اخبار 'اعتماد' کو دیے گئے انٹرویو میں محمود میر لوحی نےکہا کہ محمد باقر قالیباف کے میئر کے عہدے کے دوران ان کے حکم سے تہران کی بیش قیمت املاک فروخت کی گئیں۔ ان املاک کی خرید و فروخت کے کیسز ابھی تک کھلے ہیں ان کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ باقر قالیباف سنہ 2005ء سے 2017ء تک مسلسل 12 سال تہران کے میئر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

باقر قالیباف کے خلاف کرپشن کیسز میں ایک مشہور کیس'تہران بلدیہ فلکی کرپشن' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سنہ 2017ء‌ کے بعد اس کیس کی تحقیقات داخل دفتر کر دی گئی ہیں۔ رکن پارلیمنٹ میر لوحی کی درخواست پر اس کیس کی تحقیقات شروع کرائی گئی تھیں مگر باقری قالیباف کی طرف سے لوحی اور صحافی یاشار سلطانی کے خلاف عدالتوں میں جعلی مقدمات کے قیام کی کوشش کے بعد اس کیس کی تحقیقات روک دی گئی تھیں۔

میر لوحی نے اخبار'اعتماد' کوبتایا کہ تہران بلدیہ فللکی کرپشن کیس ایرانی عدالت نے غائب کر دیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ تہران کی بعض املاک غیرقانونی طریقے سے اسیرانی پاسداران انقلاب کو منتقل کی گئیں۔ ان میں سے کچھ املاک 'رسا تجارت' نامی کمپنی کو دی گئیں جو چند ہفتوں‌ بعد واپس لے لی گئی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے سابق جنرل اور تہران کے سابق میئر قالیباف کو اب بھی عدلیہ تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ انہوں‌ نے اپنے دور میں تہران کی کم سے کم 670 املاک غیرقانونی طریقے سے فروخت کیں۔

میر لوحی کا کہنا تھا کہ قالیباف نے تقریبا 2 ہزار سے زاید املاک غیرقانونی طریقے سے فروخت کیں۔ ان میں سے بڑی تعداد میں املاک پاسداران انقلاب کی 'رسا تجارت' نامی ایک فرم کو دی گئیں۔

تہران کے موجودہ میئر بیروز حنانتشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران کے سابق عہدیداروں نے دارالحکومت میں 41 املاک غیرقانونی طریقے سے فروخت کی تھیں۔

میر لوحی کا کہنا ہے کہ محمد باقر قالیباف کی کرپشن کو چھپانے اور اسے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایرانی عدالت کے جج حامد علی زادہ نے قالیباف کے کرپشن کیسز کی تحقیقات شروع کی تھیں مگر انہیں بھی کرپشن کے الزام میں دھر لیا گیا ہے۔ باقر قالیباف کی اربوں ڈالر کی کرپشن کی سرکاری سطح پر تحقیقات شروع ہی نہیں کی گئی ہیں۔ اب وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر بن گئے ہیں اور انہیں مزید ریاستی اور قانونی تحفظ فراہم ہو گیا ہے۔