.

شام میں قطر کی فنڈنگ کا راز فاش کرنے والے ترک فوجی جنرل کوسزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک اور یورپی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک حکام نے شام میں دہشت گردوں کو قطر کی طرف سے ترکی کے راستے رقوم کی فراہمی کا انکشاف کرنے والے ایک فوجی جنرل کو سزائے موت دے دی ۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ کی طرف سے ملنے والی خبروں میں‌ بتایا گیا ہے کہ ترک ملٹری انٹیلی جنس کے ایک بریگیڈیئر سمیح ترزری کو 20 مارچ 2019ء‌کو جنرل زکائی اکسکالی نے قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سویڈش ویب سائٹ 'نوڈیک مانیٹر' ترکی کی سرکاری دستاویزات میں کہا ہے کہ جس فوجی افسر کو سزائے موت کے طور پر ہلاک کیا گیا ہے کہ وہ شام میں‌ انٹیلی جنس کے شعبے میں کام کر رہا ہے اور اس نے ترکی کوغیرقانونی طریقے سے شام کی خانہ جنگی میں‌ جھونکنے کی کوشش کی تھی۔

ترک فوج کے ایک کرنل فرات اکوش نے یہ انکشافات ایک ترک عدالت میں جج کے سامنے پیشی کے موقعے پر پر ایک گواہ کے طور پر کیے۔

انہوں‌ نے انکشاف کیا کہ 20مارچ 2019ء کو جنرل زکائی اکسکالی جو اس وقت ایلیٹ فورس کے کمانڈر تھے نے بریگیڈیئر سمیح تزری کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ خفیہ طور پر شام میں انٹیلی جنس کارروائیوں میں مصروف تھے جن کا مقصد ذاتی مفادات کا حصول اور شام کی خانہ جنگی میں ترکی کو گھیسٹنا تھا۔

کرنل اکوش نے کہا کہ بریگیڈیئر تزری کو یہ علم تھا کہ ترکی کے ذریعے شام میں حکومت مخالف شدت پسندوں کے لیے قطر اور دوسرے ممالک کی طرف سے کتنی رقوم آئی ہیں۔ یہ رقم قطر کی طرف سے شامی باغیوں کو اسلحہ کی خریداری کے لی دی جاتی تھیں اور رقوم قطر سے ترکی اور وہاں سے عسکریت پسندوں کے لیے شام بھیجی جاتیں۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ سمیح تزری کو بہ خوبی علم تھا کہ ترک انٹیلی جنس ادارے شام میں کیا کیا گھناونے کھیل کھیل رہے ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ جنرل اکسکالی ترک فوج میں ایک مافیا کےسرغنہ کے طور پر کام کر رہا تھا جو آرمی کمان کے احکامات سے بالا رہتے ہوئے اپنی کارروائیاں انجام دیتا۔

بریگیڈیئر تزری کو شام کی سرحد سے واپس بلایا لیا گیا اور انہیں انقرہ میں دہشت گردانہ خطرات کی روک تھام کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

خیال رہے کہ کرنل اکوش بھی ترکی میں ملٹری انٹیلی جنس کی ایلیٹ فورس میں سنہ 2014ء اور 2016ء‌کے دوران خدمات انجام دے چکے ہیں۔ دسمبر 2015ء سے وہ عراق میں 'دولت اسلامی' داعش کے عروج کے دور میں‌ تنظیم کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے بنائی گئی ایک خصوصی ٹیم میں شامل رہے۔

عدالت کو بیان دیتے ہوئے مسٹر اکوش نے کہا کہ سمیح تزری کو ترک حکومت کی طرف سے شام میں دہشت گردوں تک پہنچائی جانے والی رقم اور دیگر امداد کا علم تھا۔ جب ترک حکام کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ مسٹر تزری یہ معلومات افشا کر سکتا ہے تو اسے راستے سے ہٹانے کے لیے اسے موت کےگھاٹ اتار دیا گیا۔