.

چاند اور زحل کا ملاپ، عرب دنیا میں منفرد فکلیاتی نظارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب دنیا کے آسمان پر اتوار کی شام غروب آفتاب کے بعد اور عید الاضحی کے تیسرے دن اور رات کے آغاز پر اس وقت ایک منفرد فضائی منظر دیکھنے کو ملا جب چاند اور ہمارے نظام شمسی میں شامل زحل کا آپس میں ملاپ ہوا۔ فوٹو گرافروں‌ نے اس موقع کو بھی تصاویر کے لیے غنیمت جانا اور اس منظر کی تصاویر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے امر کر دیا۔

جدہ آسٹرینومیکل سوسائٹی کے سربراہ انجینیر ماجد آل زاہرہ نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا زحل مشتری کے بعد دوسرا سب سے بڑا سیارہ ہے اور یہ زمین کے قطر سے 9 گنا بڑا ہے۔ مشتری کی طرح زحل بھی گیس سے بنا ہے اور بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے جیسے مرکبات کا مجموعہ ہے۔ سورج سے دوری کے لحاظ سے چھٹا سیارہ اور ہمارے نظام شمسی کا سب سے دور والا سیارہ ہے۔ اس سنہری نقطہ کوعام حالت میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے شاندار دائروں کی وجہ سے زحل کو انگشتری قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے گرد موجود حلقے ہی ہماری زمین اور چاند کے درمیان مسافت کو کور کرتے ہیں۔ یہ سیارہ اپنے دوسرے سیاروں مرکری ، زہرہ ، زمین ، مریخ کی نسبت ٹھوس سطح سے محروم ہے۔ اس کی وجہ اس میں چٹانی مواد کی عدم موجودگی ہے۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ زحل کے حلقے اکتوبر 2017 میں ان کی زیادہ سے زیادہ ارتقائی رخ پر پہنچ گئے جہاں اس کا شمالی رخ عروج پر ہوا۔ یہ منظر آخری بار 1988 میں دیکھا گیا اور 2046 میں دیکھا جا سکے گا۔