.

لبنان: بیروت میں تباہ کن زوردار دھماکے ، ہزاروں افراد زخمی، کثیرہلاکتوں کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں متعدد تباہ کن زور دار دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں چار ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں اور سیکڑوں عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔اب تک حکام نے 78 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکے بیروت کے شمال میں بیس کلومیٹر دور واقع بندرگاہ کے علاقے میں واقع گولہ بارود کے گودام میں ہوئے ہیں۔ ان شدید دھماکوں کی آوازیں کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی ہیں،ان سے دور دور تک کئی ایک کثیر منزلہ عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں اور شاہراہوں پر کھڑی سیکڑوں گاڑیاں جل گئی ہیں یا عمارتوں کا ملبہ گرنے سے تباہ ہوگئی ہیں۔

فوری طور پر دھماکوں کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔لبنان کی جنرل سکیورٹی کے سربراہ عباس ابراہیم نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکوں کی جگہ ’’انتہائی دھماکا خیز مواد‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ مواد کچھ عرصہ قبل ضبط کیا گیا تھا۔لبنانی وزیراعظم حسان دیاب کا کہنا ہےکہ بیروت کی بندرگاہ پر واقع گودام میں 2750 ایمونیم نائٹریٹ ذخیرہ کی گئی تھی۔

ایک دھماکا سابق وزیراعظم سعد الحریری کی اقامت گاہ کے نزدیک ہوا ہے۔لبنان کے ایک مقامی ٹی وی اسٹیشن ایم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بیروت کی بندرگاہ پر واقع ایک گودام میں پہلا دھماکا ہوا تھا۔

سعدالحریری نے دھماکوں کے بعد پروگریسو سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر ولید جنبلاط کے ساتھ اپنی تصاویر ٹویٹر پر جاری کی ہیں۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ولید جنبلاط دھماکوں کے بعد ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے ان کے ہاں آئے تھے۔

بیروت میں مقیم ایک خاتون نے العربیہ کو بتایا ہے کہ انھوں نے پہلے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی تھی۔اس کے بعد ہم نے طیاروں اور ایک دھماکے کی آواز سنی ہے۔

ان تباہ کن دھماکوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیل ابھی آرہی ہے۔بیروت کے سرکاری اداروں نے دھماکوں کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی تھیں اور عام شہری بھی اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو اسپتالوں میں پہنچا رہے تھے۔

بیروت کے اسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں اورسیکڑوں زخمیوں کو اسپتالوں کے باہر کھلی جگہوں پر لٹا کر طبی امداد مہیا کی جارہی ہے۔رات بھر بندرگاہ کے پاس پڑوس کے علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رہی ہیں اور ابھی تک سیکڑوں افرادلاپتا ہیں جس کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔