.

لبنان کا اقتصادی بحران : غربت کا عفریت نصف آبادی کو نگلنے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کو اس وقت کئی دہائیوں کے بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ اس دوران اس کی کرنسی کی قیمت میں غیر معمولی گراوٹ سامنے آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں لبنان کی نصف آبادی غربت کے سمندر میں ڈوب گئی ہے۔

اقتصادی بحران کے نتیجے میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ ملک میں اشیاء صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ عوام گذشتہ برس سے وقتا فوقتا سیاسی طبقے کے خلاف غیر معمولی نوعیت کے احتجاجی مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل پڑتے ہیں۔ عوام کے نزدیک سیاسی اشرافیہ بدعنوان ہے اور وہ اقتصادی بحران کی صورت حال پر روک لگانے سے قاصر ہے۔

گذشتہ برس 29 ستمبر (2019ء) کو سیکڑوں افراد دارالحکومت بیروت میں اکٹھا ہو گئے۔ ان لوگوں نے لبنانی کرنسی لیرہ کے عدم استحکام کی صورت حال پر احتجاج کیا اور اقتصادی حالات کی بھرپور مذمت کی۔

اسی ماہ 26 تاریخ کو ایندھن اسٹیشنوں کے مالکان نے کرنسی کے تبادلے کے اچانک تبدیل ہونے والے نرخوں اور ڈالر کی دستیابی میں کمی پر احتجاجا ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں حکومت کے ساتھ سمجھوتے کی بنا پر ہڑتال کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

اسی طرح گذشتہ برس 17 اکتوبر کو لبنان کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ موبائل ایپلی کیشنز مثلا واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے کی جانے والی مفت کالز پر فیس عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اعلان پر لبنانی عوام سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے حکومتی اعلان کو یکسر مسترد کر دیا۔ حکومت نے فیس عائد کرنے سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا تاہم ہزاروں لبنانیوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

اسی دوران عوام احتجاجی تحریک اپنے عروج پر پہنچ گئی اور چند ہی روز میں لاکھوں افراد مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل آ گئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکمراں سیاسی طبقے کو تبدیل ہونا چاہیے جو کئی دہائیوں سے مثبت تبدیلی لانے میں ناکام ہو چکا ہے اور اس پر بد عنوانی کے الزامات بھی ہیں۔

آخر کار 29 اکتوبر 2019 کو لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے عوام کے دباؤ کے تحت اپنی حکومت کا استعفاء پیش کر دیا۔

بعد ازاں 19 دسمبر کو سابق وزیر اور یونیورسٹی پروفیسر حسان دیاب کو حکومت تشکیل دینے کی ذمے داری سونپی گئی۔ تاہم حزب اللہ ملیشیا اور اس کے حلیفوں کی جانب سے دیاب کے لیے پیش کی جانے والی سپورٹ نے عوام کے اندر اشتعال پیدا کر دیا۔

رواں سال 21 جنوری کو لبنان میں نئی حکومت نے جنم لیا۔ اس میں پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی حزب اللہ ملیشیا اور اس کے حلیف شامل تھے۔

رواں سال 7 مارچ کو حسان دیاب نے اعلان کیا کہ لبنان جو 92 ارب ڈالر (مجموعی داخلی پیداوار کی مالیت کے 170% کے برابر) کے عام قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے ،، وہ 1.2 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی کے عمل کو معلق کرے گا کیوں کہ لبنانی ریاست اپنے قرضوں کو از سر نو منظم کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔

بعد ازاں 23 مارچ کو لبنان کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا کہ "ڈالر کی صورت میں واجب الادا تمام یورو بونڈز کی ادائیگی کو روک دیا گیا ہے"۔

اس کے بعد 30 اپریل کو لبنانی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے معاشی بحالی کا منصوبہ تیار ہونے کے بعد ان کا ملک آئی ایم ایف سے مدد طلب کرے گا۔

رواں سال 13 مئی کو لبنا اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔

مئی میں ہی کرنسی کے تبادلے کے نرخوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے شبہے میں متعدد منی ایکسچینجرز اور بینکرز کو حراست میں لے لیا گیا۔

مئی کے وسط میں بیروت اور طرابلس میں لبنانی کرنسی لیرہ کی قدر میں غیر معمولی گراوٹ کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ اس کے ساتھ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب دکانوں اور تجارتی مراکز نے اپنے دروازے بند کر لیے۔

اسی ماہ کے دوران وزارت خزانہ کے مشیر ہنری شاؤل اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

گذشتہ ماہ 23 اور 24 جولائی کو فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے لبنان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر فرانسیسی وزیر نے موجودہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے لبنانی حکام کی جانب سے مثبت پیش رفت نہ ہونے پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

لودریاں کا کہنا تھا کہ یہ ملک (لبنان) جہنم کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اسی ماہ 28 جولائی کو لبنانی وزیر اعظم نے لودریاں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "لبنان میں حکومتی اصلاحات کے حوالے سے فرانسیسی وزیر خارجہ کی معلومات ناقص ہے"۔

رواں ماہ 3 اگست کو لبنانی وزیر خارجہ ناصیف حتّی حکومت کے ساتھ اختلافات کے سبب اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک ایک "ناکام ریاست" بننے جا رہا ہے۔

اس کے چند گھنٹوں بعد سابق سفیر اور صدر میشیل عون کے مشیر برائے سفارتی امور شربل وہبہ کو ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کر دیا گیا۔