.

دمشق کے دیہی علاقے اور گولان میں عسکری ٹھکانوں پر اسرائیلی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے پیر کے روز شام میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق یہ فضائی حملے "دشمن عناصر" کی جانب سے سرحدی باڑ پر بم نصب کرنے کی کوششوں کے جواب میں کیے گئے۔

اسرائیلی بیان میں مزید بتایا گیا کہ حملوں میں نشانہ بنائی گئی جگہاؤں میں شامی کنٹرول کے مقامات، انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کے سسٹمز، طیارہ شکن بیٹریز اور عسکری کمان کے اڈے شامل ہیں۔

دوسری جانب شامی حکومت کے زیر انتظام سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ شامی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی شب دمشق کے جنوب مغربی دیہی علاقے کے اوپر "دشمن کے اہداف" کو فضا میں تباہ کر دیا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق القنیطرہ کے دیہی علاقے میں التل الاحمر میں عسکری ٹھکانوں پر اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں زور دار دھماکے سنے گئے۔

المرصد نے واضح نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی حملوں میں شامی فوجیوں یا بشار کی حکومت کے حلیف جنگجوؤں کا کوئی جانی نقصان ہوا۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانس پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ شام کے شمال مشرق میں البوکمال شہر کو اسرائیلی میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق اس نے شامی حکومت کی فوج کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے گولان کے پہاڑی علاقے کے جنوب میں دھماکا خیز آلات نصب کرنے کی کارروائی کے جواب میں کیے گئے۔ اس کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے شام کے جنوب میں بشار کی فوج کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

گذشتہ ماہ 20 جولائی کو دمشق کے جنوب میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 5 ایران نواز جنگجو ہلاک ہو گئے تھے جن میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا ایک رکن بھی شامل تھا۔ المرصد گروپ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سات شامی فوجی تھے۔

واضح رہے کہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنے فضائی حملوں کی تصدیق کرے۔ تاہم وہ بارہا یہ موقف دہرا چکا ہے کہ شام میں ایران کی جانب سے اپنے عسکری وجود کو مضبوط بنانے اور حزب اللہ کو جدید ہتھیار بھیجنے کی کوششوں کا راستہ روکنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔