.

حزب اللہ کے سربراہ بیروت دھماکے ایسا منظرنامہ بیان کرتے ہوئے : ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے بیروت میں دھماکے ایسا منظرنامہ اپنی 2016ء کی تقریر میں بیان کیا تھا لیکن اس خطرناک دھماکے کا ہدف بیروت نہیں، اسرائیل کا ساحلی شہر حیفا ہونا تھا۔اس تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل میں ایک ’’جوہری دھماکا‘‘ ہوسکتا ہے۔

حسن نصراللہ کا کہنا تھا:’’میں جس جوہری بم کی بات کررہا ہوں ،وہ ایسے ہوگا کہ جب ہمارے میزائل حیفا کی بندرگاہ پر واقع امونیم نائٹریٹ کے گودام پر گریں گے تو اس سے وہی اثر ہوگا جیسا ایک جوہری بم سے ہوتا ہے۔‘‘

انھوں نے اس تقریر میں ہلاکتوں کا تخمینہ بھی ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’جب ہمارے میزائل 8 لاکھ آبادی والے علاقے میں واقع گودام کو ہدف بنائیں گے تو ہزاروں افراد ہلاک ہوجائیں گے۔‘‘

ان کی تقریر کی یہ ویڈیو بیروت میں منگل کی شام تباہ کن زوردار دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے۔لبنان کی انجمن ہلال احمر نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ پر واقع گودام میں زوردار دھماکے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں 130 سے زیادہ افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

بیروت کے گورنر مروان عبود نے ابتدائی تخمینوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ بندرگاہ کے علاقے میں تباہ کن دھماکوں کے نتیجے میں تین سے پانچ ارب ڈالر تک مالی نقصان ہوا ہے اور مکانات اور اپارٹمنٹ عمارتیں تباہ ہونے سے کم سے کم تین لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

لبنانی وزیراعظم حسان دیاب اور صدر میشیل عون کے مطابق بندرگاہ میں واقع ایک گودام میں گذشتہ چھے سال سے 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ ذخیرہ تھی اوراس کے لیے کوئی حفاظتی احتیاطی اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔امونیم نائٹریٹ کو زرعی کھادوں اور بموں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق بندرگاہ پر گودام میں پڑے اس انتہائی خطرناک دھماکا خیز مواد سے بچاؤ کے لیے سالہا سال تک پہلوتہی کی جاتی رہی ہے۔حکام کی غفلت اور نااہلی کے نتیجے میں لبنانیوں کو یہ اس الم ناک سانحے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔