.

بیروت دھماکوں کے بعد حوثیوں کی ہٹ دھرمی سے یمن میں المیے کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ میں ہونے والے تباہ کن دھماکوں کے بعد یمن میں بھی ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں انسانی المیہ رونما ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے الحدیدہ گورنری کے ساحل پر ایک تیل اور گیس بردار جہاز 'صافر' کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کئی سال سے خام تیل سے لدے اس جہاز سے اب تیل آہستہ آہستہ بہنا شروع ہو گیا ہے۔ یمنی حکومت کے مطابق صافرآئل ٹینکر پر 10 لاکھ بیرل خام تیل موجود ہے۔ حوثی باغی نہ تواس جہاز کو خالی کر رہے ہیں اور نہ ہی اسے وہاں سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ان کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں یہ جہاز کسی بھی وقت کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔ پانچ سال سے یرغمال بنائے گئے اس جہاز کی مرمت کے لیے اقوام متحدہ کی ٹیم کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے بتایا کہ بیروت بندرگاہ میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر جانی ، مالی، ماحولیاتی اور معاشی تباہی ہوئی ہے اس نے صافر آئل ٹینکر کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ بحر الاحمر کی راس عیدسیٰ بندرگاہ پر کھڑا صافر آئل ٹینکر ایک ٹائم بم ہے۔

الریانی کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی صافر آئل ٹینکر کے ذریعے عالمی برادری کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ اس جہاز پر ایک ملین بیرل سے زاید تیل لادا گیا ہے جو کسی وقت کسی بڑے سانحے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ جہاز سمندر میں کھڑا کھڑا ٹوٹ رہا ہے۔