.

رفیق حریری قتل کیس سے متعلق فیصلہ 18 اگست تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ بین الاقوامی ٹریبونل نے کیس کا فیصلہ 18 اگست تک ملتوی کر دیا ہے۔ ٹریبونل کی جانب سے تحقیقات کا فیصلہ کل سات اگست کو سنایا جانا تھا۔ خیال رہے کہ رفیق حریری 14 فروری 2005ء کو بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ٹریبونل کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ کمیشن کے قیام کے بعد ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے پانچ عناصر پر اس واقعے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ تاہم حزب اللہ نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے محض سیاسی الزام تراشی قرار دیا تھا۔ حزب اللہ نے ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے اور اس حوالے سے کیس قسم کی تحقیقات میں عدم تعاون کا اعلان کیا تھا۔

رفیق حریری کے قتل کے مبینہ منصوبہ سازوں میں مصطفیٰ بدرالدین بھی شامل تھا جو سنہ 2016ء‌کو شام میں ہلاک ہو گیا تھا تاہم دیگر چار ملزمان کے ٹھکانے کا پتا نہیں چل سکا۔

مصطفیٰ‌ بدرالدین کو رفیق حریری قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ اس نے رفیق حریری کے قتل سے قبل اس واردات کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ مئی 2016ء کو حزب اللہ نے ایک بیان میں مصطفیٰ‌ بدرلاین کی دمشق ہوائی اڈے کے قریب ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔