.

فرانسیسی صدرکا تباہ حال بیروت کا دورہ، لبنانیوں کا قیادت ہٹانے کے لیے مدد دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں جمعرات کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچے ہیں اور انھوں نے دو روز قبل تباہ کن زور دار دھماکے کے نتیجے میں شہر میں ہونے والی تباہ کاریوں کا بچشم خود جائزہ لیا ہے۔

فرانسیسی صدر بیروت کی گلیوں میں لبنانیوں سے گھل مل گئے۔ان کے دورے کے موقع پر جمع ہونے والے لبنانیوں نے ان سے ملک کے سیاست دانوں پر مشتمل نظام حکومت کو ہٹانے میں مدد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ سیاسی اشرافیہ کی بدعنوانیوں کے نتیجے میں لبنان تباہی سے دوچار ہوا ہے۔

صدر عمانوایل نے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں آپ کے چہروں پر جذبات ، افسردگی اور درد کو دیکھ سکتا ہوں۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’ یہاں سیاسی تبدیلی کی بھی ضرورت ہے،یہ دھماکا ایک نئے دور کا آغاز ہونا چاہیے۔‘‘ وہ بیروت میں دو روز پہلے تباہ کن دھماکے کے بعد لبنان کا دورہ کرنے والے پہلے غیرملکی لیڈر ہیں۔

بیروت کی بندرگاہ پر واقع امونیم نائٹریٹ کے گودام میں زوردار دھماکوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔لبنانی حکام نے ان دھماکوں میں اب تک 145افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور 5 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔فرانسیسی صدرنے لبنانیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے سوگ میں سیاہ رنگ کی ٹائی پہن رکھی تھی۔

انھیں سکیورٹی محافظوں نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔انھوں نے لبنان کو مزید طبی اور دوسری امداد بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔اس موقع پر ان کے گرد جمع ہونے والے لبنانی ’’انقلاب ، انقلاب ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’’ عوام نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘‘

صدر ماکروں نے کہا کہ وہ لبنان کی قیادت کو ’’ملکی سچائی ‘‘ کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ان کی طرف امداد کے اعلان پر ایک لبنانی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:’’ ہمیں امید ہے کہ یہ امداد لبنانی عوام کو ملے گی ، کرپٹ لیڈروں کے ہاتھ نہیں لگے گی۔‘‘

دھماکے میں تباہ شدہ ایک فارمیسی کے دورے کے بعد انھوں نے لوگوں کے جمع ہونے والے ہجوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں آپ کے غم وغصہ کو سمجھتا ہوں، میں یہاں نظام کو خالی چیک دینے کے لیے نہیں آیا ہوں۔‘‘

فرانسیسی صدر نے بیروت کے مسیحی اکثریتی آبادی والے علاقے کا دورہ کیا تھا۔اس موقع پر ایک ہجوم یہ نعرے لگاتا بھی سنا گیا ہے کہ ’’ مسٹر ماکروں، ہمیں حزب اللہ سے نجات دلائیے۔‘‘ان کا اشارہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی جانب تھا جو لبنان کی سیاست ، داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

واضح رہے کہ لبنان بیروت دھماکوں سے پہلے بھی معاشی بحران سے دوچار تھا،اس کے بنکوں کا دیوالہ نکلنے کو ہے،اس کی کرنسی کی قیمت روز بروز گررہی ہے اور قرضوں کا انبار بڑھتا چلا جارہا ہے۔اس کو مالیاتی بحران سے نکلنے اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے بیرونی امداد کی اشد ضرورت ہے۔اب آدھے بیروت شہر کی تباہی سے اس کے لیے مزید معاشی وسماجی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔