بیروت دھماکوں کے مبینہ منصوبوں سازوں کے بنک کھاتے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بم دھماکوں سے متاثرہ بندرگاہ میں دھماکوں میں‌ ملوث ہونے کے شبے میں متعدد اہلکاروں کے بنک کھاتے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ منگل کے روز ہونے والے دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعدا 137 ہو گئی ہے۔ پولیس نے بیروت دھماکوں کے شبے میں 16 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بیروت میں قائم مقام فوجی عدالت کے کمشنر فادی العقیقی نے جمعرات کے روز بیروت پورٹ کے عہدیداروں سمیت 16 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔عقیقی نے ایک بیان میں کہا کہ اب تک 18 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے جن میں بیروت بندرگاہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ، کسٹم انتظامیہ کے عہدیدار ، مرمت کے کام کے ذمہ دار عہدیدار اور وارڈ نمبر 12 میں انتظامیہ کے اہلکار شامل ہیں۔

سنٹرل بینک کی تحقیقاتی کمیٹی کی ایک خفیہ دستاویز کے مطابق جمعرات کے روزے مرکزی بینک نے دارالحکومت کے بندرگاہ دھماکے کے بعد بیروت بندرگاہ کے سربراہ ، لبنانی کسٹم انتظامیہ کے سربراہ اور پانچ دیگر افراد کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے۔

بان کے ڈو لیبن میں خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے قرارداد نمبر 1/1/14/2020 جاری کی جس میں اس نے اشارہ کیا ہے کہ “6/8/52020 کو کمیشن کے سکریٹری جنرل کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری استغاثہ کے نوٹس نمبر 4476 / M / 2020 کا جائزہ لینے کے بعد اتھارٹی نے لبنان میں کام کرنے والے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ ، انفرادی طور پر یا مشترکہ طور پر مندرجہ ذیل ناموں سے تعلق رکھنے والے اکاونٹس کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اکاؤنٹس بیروت پورٹ کے جنرل ڈائریکٹر حسن قریطم ، سابقہ ڈائریکٹر جنرل کسٹمز ، شفیق مری ، کسٹم انتظامیہ کے جنرل ڈائریکٹر بدری ضاہر اور نائلا الحاج (بیروت پورٹ میں بحالی کے کام کی نگرانی کرنے والی مشاورتی کمپنی کی ڈائریکٹر) اور میشال نحول پورٹ ڈیپارٹمنٹ میں پروجیکٹ ڈائریکٹر،) جارج ظاھر اور نامہ بریکس کے بنک کھاتے منمجمد کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں