دھماکے کے بعد "بیروت کی دُلہن" کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

منگل کے روز لبنانی دارالحکومت بیروت میں قیامت صغری برپا ہونے کے بعد سے اس ناگہانی آفت سے منسوب نت نئی کہانیاں سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی حوالے سے 29 سالہ لبنانی نوجوان خاتون اِسراء السبلانی بھی گذشتہ گھنٹوں کے دوران مشہور ہو گئی ہے۔ اسراء کا ایک وڈیو کلپ وائرل ہوا ہے جس میں وہ عروسی جوڑے میں نظر آ رہی ہے۔ شومئی قسمت کہ اسراء کی شادی منگل کے روز منعقد ہو رہی تھی جو بیروت دھماکے کی وجہ سے اس کی زندگی کا بھیانک ترین دن بن گیا۔

اس روز اسراء سفید عروسی جوڑے میں چہرے پر دلہن کی مسکراہٹ کے ساتھ کیمرہ مین کے سامنے کھڑی تھی تا کہ زندگی کے خوب صورت ترین دن کی یادیں محفوظ کر سکے۔ تاہم یہ دن نہ صرف اسراء بلکہ پوری دنیا کی یادداشت میں ناقابل فراموش دن کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اسی اثناء کانوں کو سُن کر دینے والے زوردار دھماکے نے اچانک سب کچھ بدل دیا۔ اسراء شدید جھٹکے کے باعث زمین پر جا گری۔

کیمرے میں وہ دہلا دینے والا منظر بھی محفوظ ہو گیا جس نے لبنانی دارالحکومت کو لرزا کر رکھ دیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 137 افراد کی جان چلی گئی اور 5000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

اسراء پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے اور وہ امریکا میں کام کرتی ہے۔ دھماکے کے فوری بعد اس نے اپنے ہم وطنوں کو ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے معائنے کی کارروائی میں بھرپور معاونت کی۔ بعد ازاں وہ بیروت کے وسط میں واقع الصیفی اسکوائر سے روانہ ہو گئی۔

اسراء اور اس کے 34 سالہ شوہر احمد صبیح (لبنانی کاروباری شخصیت) کے لیے یہ واقعہ ایک بڑا دھچکا تھا۔

رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اسراء نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ "میں دو ہفتوں سے شادی کے دن کے لیے تیاری میں مصروف تھی۔ تاہم شادی والے روز وڈیو بننے کے دوران جو کچھ ہوا اس کا کوئی شخص تصور بھی نہیں کر سکتا"۔

اسراء نے مزید بتایا کہ "چند سیکنڈز کے اندر ہی اس ہوٹل کے شیشے ٹوٹ کر چکناچور ہو گئے جہاں شادی کی تقریب منعقد ہو رہی تھی"۔ دھماکے کے فوری بعد اسراء اور اس کا شوہر متاثرہ علاقے کی جانب روانہ ہو گئے۔ اسراء کے مطابق وہاں کا منظر دلوں کو چیر دینے والا تھا اور تباہی اور دھماکے کی آواز ناقابل بیان تھی۔ وہ اپنے علاوہ لبنان کے لوگوں کے ساتھ پیش آنے والے اس اندوہ ناک حادثے کے سبب صدمے کی حالت میں ہے۔

دھماکے کے اگلے روز بدھ کی صبح دونوں دلہا اور دلہن شدید نقصان سے دوچار ہونے والے ہوٹل میں داخل ہوئے تا کہ اپنا سامان اور پاسپورٹس لے سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کمرے کی حالت ناقابل یقین تھی۔

واضح رہے کہ منگل 4 اگست کی سہ پہر ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں بیروت میں بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے کا مقام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس کا شمار لبنان کے اہم ترین مقامات میں ہوتا ہے جو ریاستی خزانے میں مالی رقوم پہنچانے کا نمایاں ترین ذریعہ تھا۔ دھماکے کے بعد یہ مقام ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں