.

شاہ سلمان مرکز کی جانب سے پہلا امدادی قافلہ بیروت روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج جمعے کے روز شاہ سلمان امدادی مرکز کے زیر انتظام دو طیارے 120 ٹن سے زیادہ امدادی سامان لے کر لبنان کے دارالحکومت بیروت روانہ ہو گئے۔ اس سے قبل سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہدایات جاری کی تھیں کہ منگل کے روز بیروت کی بندرگاہ پر خوف ناک دھماکے کے بعد متاثرہ لبنانی عوام کے لیے فوری طور پر امداد پیش کی جائے۔ خادم حرمین کی ہدایات میں سعودی عرب اور لبنان کے درمیان امداد کی ترسیل کے لیے فضائی پل قائم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ منگل 4 اگست کی سہ پہر ہونے والے دھماکے میں کم از کم 149 افراد ہلاک اور 5000 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

جمعے کی صبح ریاض کے شاہ خالد ہوائی اڈے سے کی جانے والی امداد میں دوائیں، طبی ساز و سامان، ہنگامی طبی امداد میں استعمال ہونے والے لوازمات، خیمے، سلیپنگ بیگز اور غذائی مواد شامل ہے۔

سعودی شاہی دفتر کے مشیر اور شاہ سلمان امدادی مرکز کے نگرانِ عام ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ خادم حرمین شریفین کی خصوصی ہدایات پر عمل درامد کرتے ہوئے امدادی فضائی پُل کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں لبنانی عوام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر طبی اور انسانی امداد پیش کی جا رہی ہے۔

الربیعہ نے باور کرایا کہ خادم حرمین شریفین کی جانب سے یہ اقدام انسانی اقدار کا مجسم پیکر نظر آتا ہے۔ یہ امداد عالمی سطح پر مملکت سعودی عرب کے اس مرکزی کردار کو نمایاں کرتی ہے جو وہ ضرورت مندوں کو امداد پیش کرنے میں ادا کرتی ہے ، خواہ وہ دنیا میں کسی بھی جگہ پر ہوں۔

جمعرات کے روز شاہ سلمان امدادی مرکز کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ مرکز مملکت میں لبنان کے متاثرین کے لیے امداد پیش کرنے کا واحد ادارہ ہے۔ لہذا عوام اس سلسلے میں کسی بھی شخص یا ادارے کی جانب سے میڈیا یا سوشل میڈیا کے ذریعے عطیات یا چندہ جمع کرنے کی اپیلوں پر ہر گز کان نہ دھریں۔ ان مشتبہ کارروائیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کا قوی اندیشہ ہے۔ بہرکیف لبنان کے عوام کے لیے عطیات شاہ سلمان امدادی مرکز کی جانب سے منظور شدہ ادارے کے ذریعے دیے جانے چاہئیں۔