.

لبنان کی مشکل اور پیچیدہ صورت حال میں مدد کے لیے حاضر ہیں: احمد ابو الغیط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط آج ہفتے کے روز بیروت پہنچے ہیں۔ اپنے دورے میں وہ لبنانی صدر میشل عون، وزیر اعظم حسان دیاب اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے ملاقات کریں گے۔ ابو الغیط بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے کی جگہ کا دورہ بھی کریں گے۔

بیروت کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے کچھ دیر بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ابو الغیط نے منگل کی سہ پہر برپا ہونے والی قیامت صغری کے بعد لبنان کی مدد کی خاطر عرب ممالک کے فوری طور پر حرکت میں آنے کو سراہا۔ بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 154 افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ لبنان کی صورت حال مشکل اور پیچیدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "لبنانی حکام جس طرح تجویز دیں گے ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں"۔ ابو الغیط نے باور کرایا کہ عرب دنیا لبنانی عوام کے ساتھ وسیع پیمانے پر یک جہتی رکھتی ہے۔

احمد ابو الغیط نے اعلان کیا کہ وہ فرانس کے صدر کی جانب سے لبنان کے لیے اتوار کے روز بلائی گئی سپورٹ کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

طبی امداد کے حوالے سے ابو الغیط نے بتایا کہ لبنانی صدر میشیل عون اس بات سے آگاہ کر چکے ہیں کہ موصول ہونے والی طبی امداد فی الوقت ملکی ضرورت کے لیے کافی ہے۔

یاد رہے کہ یورپی ادارے اتوار کے روز فرانس کی جانب سے منعقد کی جانے والی ڈونرز کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ یورپی کمیشن نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد بیروت شہر کے لوگوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کو یقینی بنانا ہے۔

توقع ہے کہ یورپی کونسل کے سربراہ چارل میشیل لبنانی عوام کے ساتھ یورپ کے اظہارِ یک جہتی کے لیے ہفتے کے روز بیروت کا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ لبنانی ذمے داران سے ملاقات بھی کریں گے۔