.

اسرائیل کا وادی گولان میں ایرانی سیل کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے وادی گولان میں جس عسکری گروپ کے عناصر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا وہ ایران کے لیے کام کر رہا تھا اور اسے ایران کی طرف سے براہ راست ہدایات مل رہی تھیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے کہا کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے اور شام میں اپنے انتہا پسندانہ نیٹ ورک کو مضبوط ہونے سے روکنے کے کام کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دشمنوں کا تمام محاذوں پر مقابلہ کریں گے۔ بالخصوص شمالی محاذ پر بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ دشمن کو اسمارٹ میزائلوں کے حصول سے روکنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سوموار کو اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی طیاروں نے شام میں عسکری اہداف پر بمباری کی ہے۔ اس بمباری میں دشمن عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ عناصر مقبوضہ وادی گولان میں اسرائیلی سرحد کے قریب بم نصب کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں جن مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں مانیٹرنگ مراکز، انٹیلی جنس سسٹم، اینٹی ایئر کرافٹ بیٹریوں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق شامی محکمہ دفاع نے جنوب مغربی شام میں دشمن کی طرف سے کیا گیا حملہ پرپسا کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ وادی گولان پر اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کیا تھا۔ 1200 مربع کلو میٹر کے علاقے پر اسرائیل نے 1981ء میں اپنی عمل داری قائم کی تھی۔ وادی گولان کا 510 مربع کلو میٹر کا علاقہ شامی رجیم کے کنٹرول میں ہے۔