.

بیروت دھماکا:لبنانی وزیراعظم حسان دیاب کابینہ سمیت مستعفی

صدر میشال عون نے استعفا منظور کر لیا،حسان دیاب کو نئی کابینہ کی تشکیل تک عبوری وزیراعظم کے طور پر کام کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم حسان دیاب بیروت دھماکے کے کوئی ایک ہفتے کے بعد اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوگئے ہیں اور صدر میشال عون ان کا استعفا منظور کر لیا ہے۔

حسان دیاب سوموار کو ٹیلی ویژن پر براہ راست ایک نشری تقریر میں اپنی حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ملک میں کرپشن ریاست سے بھی بڑی ہے مگر اس کے باوجود ان کی حکومت نے پوری توانائی اور وقار کے ساتھ کام کیا ہے۔‘‘

انھوں نے اپنے بے نامی مخالفین پر الزام عاید کیا کہ انھوں نے حکومت کو کسی قسم کی اصلاحات پر عمل کرنے دیا ہے اور نہ کوئی پیش رفت کرنے دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اکیلے تھے اور باقی سب ہمارے مخالفین تھے۔‘‘

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’’بیروت کی بندرگاہ پر دھماکا سیاست ، انتظامیہ اور ریاست میں دائمی بدعنوانیوں کا نتیجہ تھا۔‘‘انھوں نے اپنی اس تقریر میں بار بار ’’بعض لوگوں‘‘ کی جانب اشارے کیے ہیں جو ان کے بہ قول صرف سیاسی نمبر بنا رہے تھے،وہ مقبول عام انتخابی نعروں ہی کا پرچار کرتے رہے ہیں اور انھوں نے ریاست کے باقی ماندہ وجود ہی کو معدوم کردیا۔

لبنانی صدر میشال عون نے وزیراعظم دیاب اور ان کی حکومت کا استعفا منظور کرلیا ہے مگر انھیں نئی حکومت کی تشکیل تک نگران وزیراعظم کے طور پر کام کرنے کا کہا ہے۔2016ء میں میشال عون کے صدر منتخب ہونے کے بعد یہ تیسری حکومت مستعفی ہوئی ہے۔

حسان دیاب کے زیر قیادت نئی کابینہ جنوری میں تشکیل پائی تھی اور اس کو ایران نواز طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی۔ گذشتہ چند روز میں ان کی کابینہ میں شامل چار وزراء اور پارلیمان کے ارکان پہلے ہی مستعفی ہوگئے تھے۔سیاسی ذرائع کے مطابق بہت سے وزراء نے مستعفی ہونے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔اس کے بعد کابینہ نے اجتماعی استعفا پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بیروت میں گذشتہ منگل کے روز تباہ کن دھماکے کے نتیجے میں 158 افراد ہلاک اور چھے ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔بیروت کے گورنرمروان عبود کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ہزاروں عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں اور کم سے کم تین لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

اس تباہ کن دھماکے کے بعد سے بیروت اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ہزاروں لبنانی شہری حکمران طبقے کو اس واقعے کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں اور وہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے کوئی خاطرخواہ انتظامات نہ کرنے پر حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور وہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔گذشتہ تین روز کے دوران میں مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں بیسیوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔