.

بیروت میں مظاہروں کی کال ، استعفوں کا عفریت حکومت کے سر پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں عوامی تحریک نے آج پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے عوام کو دارالحکومت بیروت کے وسط میں "ریاض الصلح" اسکوائر پر اکٹھا ہونے کی کال دی ہے۔ یہ کال ایسے وقت پر دی گئی ہے جب لبنانی حکومت کا اجلاس منعقد ہونا بھی مقرر ہے۔

بیروت میں وسیع پیمانے پر دو روز سے جاری مظاہروں کے بعد سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔ آج پیر کے روز احتجاج کی نئی لہر کے توقعات کے بیچ سیکورٹی فورسز نے بیروت میں پارلیمنٹ کے داخلی راستے اور اس کے اطراف چیک پوسٹس میں اضافہ کر دیا ہے۔

بیروت کی سڑکوں پر اتوار کو مسلسل دوسرے روز عوامی مظاہرے دیکھے گئے۔ اس دوران مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت تک پہنچنے کی کوششیں کیں جس کے سبب سیکورٹی فورسز اور احتجاجیوں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ مظاہرین حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

فوجی قیادت نے احتجاجیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پر امن طریقے سے اپنے مطالبات کا اظہار کریں۔ فوج نے مظاہرین کے خلاف براہ راست فائرنگ کی تردید کی۔

ادھر سیاسی جانب لبنانی میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ وزیر داخلہ محمد فہمی آج پیر کے روز اپنا استعفاء پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس سے قبل لبنان کے وزیر برائے ماحولیات و انتظامی بہبود دمیانوس قطار اور خاتون وزیر اطلاعات منال عبدالصمد اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکی ہیں ... جب کہ وزیر محنت لمیا یین حکومتی اجلاس کے بعد یہ باور کرا چکی ہیں کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گی۔

تاہم اس طرح کی معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ وزیر اعظم حسان دیاب کی صدارت میں اجتماعی استعفے پیش کرنے کے حوالے سے وسیع پیمانے پر مشاورت جاری ہے۔

لبنانی اخبار "النہار" کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری جمعرات کے روز اعلانیہ اجلاس کا انعقاد کریں گے تا کہ بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے کے اثرات کو زیر بحث لایا جا سکے۔

اخبار کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق پارلیمانی طریقے سے حکومت ختم کرنے کا سیاسی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے سبب وزیر اعظم حسان دیاب پارلیمنٹ کے فیصلے سے قبل ہی آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنی حکومت کا استعفاء پیش کر سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہو گیا تو لبنان ایک بار پھر ایگزیکٹو اتھارٹی کے حوالے سے خلا کا شکار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی اگر حکومت مستعفی ہو گئی تو وہ نگراں حکومت میں تبدیل ہو جائے گی۔