.

خامنہ ای کے ماتحت تنظیم حکومتی املاک پر قبضے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ماتحت چلنے والی ایک تنظیم'نادار فاوئڈیشن' جسے 'بنیاد' کا نام بھی دیا جاتا ہے نے ایرانی حکومت کی سرکاری املاک پر قبضے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسی ضمن میں بنیاد کے چیئرمین پرویز فتاح کا ایک بیان عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئے تنازع کا باعث بنا ہے جس میں انہوں‌ نے حکومتی املاک پر قبضے کی بات کی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پرویز فتاح کے بیان کے بعد صدر حسن روحانی کی مشیر برائے امور نسواں معصومہ ابتکار نے 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ اپنے رد عمل میں کہا کہ ایران میں خواتین سے متعلق ریسرچ سینٹر کی عمارت 5 ارب ایرانی تومان میں خریدا گیا ہے۔ اسے غیرقانونی طور پر ہتھایا نہیں گیا۔ اس لیے اس پر کسی دوسرے ادارے کو دست درازی کا کوئی حق نہیں۔

ادھر سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دفتر سے جاری ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ انہیں 'بنیاد' فائوئڈیشن کی طرف سےاحمدی نژاد اور ان کے صاحب زادے کے دفاتر پرقبضے کا نوٹس نہیں ملا۔ وہ سنہ 2013ء سے ان دفاتر کو استعمال کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ احمدی نژاد نے سنہ 2017ء کو خامنہ کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ 'بنیاد' فاونڈیشن کے تمام اثاثے فروخت کرکے عوام میں تقسیم کریں۔

پرویز فتاح نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ تمام مسلح‌ افواج بالخصوص پاسداران انقلاب، پارلیمنٹ،سابق صدر محمود احمدی نژاد بنیاد فاونڈیشن کی عمارتیں استعمال کر رہے ہیں۔ ان سے یہ املاک واپس لی جائیں گی۔

قبل ازیں پرویز فتاح نے کہا تھا کہ رواں سال تنظیم کے کاروباری سیکٹر کو 3 کھرب 60 ارب ریال کا اضافی منافع حاصل ہوا ہے۔ جو کہ کل منافع کا 34 فی صد ہے۔ 20 مارچ کو سامنے آنے والی رپورٹ میں‌ تنظیم کا کل منافع 7 کھرب ایرانی ریال بتایا گیا تھا۔

ایران میں سپریم لیڈر کے ماتحت کام کرنے والی'بنیاد' فاونڈیشن ایران کی قومی تیل کمپنی (NIOC) کے بعد دوسرا بڑا کاروباری ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تحت 200 کارخانے اور دسیوں کمپنیاں کام کرتی ہیں۔