.

سانحہ بیروت کے بعد سعودی عرب سب سے پہلے لبنان کی امداد کو پہنچا: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سانحہ بیروت کے بعد لبنان کی فوری مدد کرنے والوں میں سعودی عرب پیش پیش رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزیر‌خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان خیالات کا اظہار فرانس کی دعوت پر لبنان کی مدد کے لیے بلائی گئی ورچوئل ڈونرز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کے داراٌحکومت بیروت کی بندرگاہ میں ہونے والے خوفناک اور خونی دھماکوں کے بعد متاثرین تک امداد لے کرسب سے پہلے شاہ سلمان ریلیف مرکز پہنچا۔ اس کے بعد سے سعودی عرب لبنان میں دھماکوں سے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے پیش پیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان سعودی عرب کا بھائی ہے اور ہم مشکل کی اس گھڑی میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیروت دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس کی عالمی سطح پر آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

خیال رہے کہ کل اتوار کے روز شاہ سلمان ریلیف سینٹر کی جانب سے امدادی سامان لے کر چھوتا مال بردار جہاز لبنان پہنچا ہے۔ یہ امدادی سامان بیروت بندرگاہ میں ہونے والے دھماکوں کے متاثرین کی بحالی کے لیے بھیجا گیا ہے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے بیروت دھماکوں کے بعد متاثرہ شہریوں کی فوری مدد کی ہدایت کی تھی۔
سعودی عرب کی طرف سے فوری طورپر 90 ٹن امدادی بیروت پہنچایا گیا جس میں خوراک، آلات جراحی، ادویات، کھجوریں اور عارضی قیام گاہوں کا سامان، کمبل خیمے، چٹائیاں اور برتن شامل تھے۔ چار مال بردار طیاروں کے ذریعے مجموعی طور پر 290 ٹن امدادی سامان بیروت پہنچایا گیا ہے۔