.

سعودی عرب : اینٹی کرپشن اتھارٹی کے تحت 218 فوجداری کیسز کا اندراج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی "نزاہہ" کے ایک ذمے دار ذریعے نے بتایا ہے کہ اتھارٹی نے گذشتہ عرصے کے دوران 218 مجرمانہ کیسوں کا آغاز کیا ہے۔

ان میں اہم ترین کیس کے سلسلے میں مشرقی صوبے الشرقیہ میں ایک کاروباری شخصیت اور 10 شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں مجلس شوری کا ایک موجودہ رکن، ایک سابق جج، ایک موجودہ نوٹری، ایک سابق بینک اہل کار، صوبے کا ایک سابق پولیس سربراہ، ملکت کے ایک ہوائی اڈے کا سابق کسٹم ڈائریکٹر شامل ہے۔ ان کے علاوہ متعدد ریٹائرڈ افسران ایسے ہیں جن کو صحت کی خرابی کے سبب حراست میں نہیں لیا گیا۔ مذکورہ کاروباری شخصیت نے ان سرکاری اہل کاروں کو مالی اور دیگر نوازشوں کی صورت میں ان کی ملازمتوں کے دوران رشوت ادا کی۔ اس کی کل مالیت 2 کروڑ ریال سے زیادہ بنتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ کاروباری شخصیت منی لانڈرنگ اور جعل سازی میں بھی ملوث رہی۔

اسی طرح مملکت کی ایک بندرگاہ کے ڈائریکٹر اور متعدد اعلی اہل کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان افراد نے اپنی پیشہ وارانہ ذمے داریوں پہلو تہی کی، اپنے اثر و رسوخ کا ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا، غیر قانونی طور پر مال بنایا اور منی لانڈرنگ کا بھی ارتکاب کیا۔

وزارت داخلہ کے تعاون سے سیکورٹی سیکٹر کے پانچ افسران کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان میں ایک افسر حج سیزن کے دوران درآمد کی گئی گاڑیوں کی دستاویز میں جعل سازی کا ارتکاب کیا۔ اس کے نتیجے میں 17 کے بجائے 8 گاڑیوں کی درآمد ہوئی۔ ان میں شامل ایک نہایت قیمتی اور پر تعیش مرسڈیز کار ملزم نے ذاتی طور پر استعمال کی۔ اسی طرح ایک افسر نے بے قاعدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 لاکھ لیٹر پٹرول ایک کمپنی کے تصرف میں دے دیا۔

اس کے علاوہ متعدد کیسوں کے تحت بدعنوانی میں ملوث درجنوں سرکاری ملازمین کو حراست میں لیا گیا۔

کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی نے باور کرایا ہے کہ وہ سرکاری مال پر ہاتھ صاف کرنے والے اور اپنے عہدے کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنے والے ہر شخص کی گرفت کرے گی۔ اس حوالے سے خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے خلاف نظام کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اتھارٹی نے مالی اور انتظامی بدعنوانی کے انسداد کے سلسلے میں حکومتی اداروں کی کوششوں کو گراں قدر قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں