.

اسرائیلی فوج کے آتش گیرغباروں کے جواب میں غزہ میں حماس کے اہداف پر فضائی اور زمینی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں بدھ کو حماس کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں۔اس نے یہ حملہ غزہ سے جنوبی اسرائیل کی جانب آتش گیر غبارے چھوڑے جانے کے جواب میں کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لڑاکا جیٹ اور ہیلی کاپٹروں نے غزہ میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے زیر زمین ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے سرحدی علاقے میں ٹینکوں سے بھی گولہ باری کی ہے۔

صہیونی حکام کے مطابق جنوبی اسرائیل کی جانب غزہ سے چھوڑے گئے آتشی غباروں سے 60 جگہوں پر آگ لگ گئی تھی لیکن ان واقعات میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کاروں نے 2018ء میں غباروں اور پتنگوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ وہ ان کے ساتھ آتش گیر مواد کو باندھ کر اسرائیل کی جانب چھوڑ دیتے تھے جس سے سرحدپار اسرائیل کے ہزاروں فارموں اور آبادیوں میں آگ لگ جاتی تھی جس سے بھاری مالی نقصان ہوا تھا۔

اسرائیل نے غزہ سے غباروں کے حالیہ حملوں کے بعد کیرم شالوم گذرگاہ کو بند کردیا ہے۔اس سرحدی گذرگاہ کو اشیاء کی حمل ونقل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں سے اسرائیل سے آنے والی مال بردار گاڑیاں گذرتی ہیں۔

حماس نے اس بارڈر کراسنگ کی بندش کی مذمت کی ہے اور اس کو جارحانہ اقدام قرار دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ تنگ کرنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔اس سے فلسطینی علاقے میں انسانی صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی۔

ادھر مصر نے منگل کے روز اپریل کے بعد پہلی مرتبہ رفح بارڈر کراسنگ کو کھول دیا ہے اور رفح سے غزہ اور مصری علاقے کی جانب ٹریفک کو جانے اورآنے کی اجازت دے دی ہے۔کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد پہلی مرتبہ اہل غزہ کو مصر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔