.

قطر کی لبنانی حزب اللہ کی فنڈنگ میں‌ ملوث ہونے کی صوتی ریکارڈنگ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کی طرف سے لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مالی معاونت سے متعلق ایک نئی صوتی ریکارڈنگ کا انکشاف ہوا ہے۔ مغربی انٹیلی جنس افسر اور 'ڈبلیو ایم پی' تعلقات عامہ کمپنی کے سی ای او مائیکل اینکر کے مابین بات چیت کی ایک آڈیو ریکارڈنگ کا سامنے آئی ہے۔ اس کال میں برسلز میں قطری سفیر عبدالرحمٰن الخلیفی کا متعدد بار ذکر کیا گیا جو حزب اللہ کے لیے قطری فنڈنگ کے انکشافات کو پردہ راز میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یروشلم پوسٹ نے اس لیک کی گئی ریکارڈنگ پر ایک رپورٹ شائع کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا کو مالی اعانت دینے گواہان کو خاموش کرنے کے لیے انہیں خریدنے کی کوشش کی گئی۔

اس ریکارڈنگ کی تصدیق جرمن پریس نے بھی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برسلز میں دوحا کے سفیر عبد الرحمٰن الخلیفی نے حزب اللہ کی فنڈنگ میں قطر کے کردار کے بارے میں معلومات پر خاموش رہنے کے لیے ، مغربی انٹلیجنس سروس کے ایک ملازم کو ساڑھے سات لاکھ یورو کی پیش کش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بیلجیئم میں قطری سفارت کار نے' ڈبلیو ایم پی پبلک ریلیشنز' کے سی ای او مائیکل اینکر کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ دوحا کی حزب اللہ کی مالی مدد کو خفیہ رکھیں۔

ایک جرمن اخبار کے مطابق اینکر نے حزب اللہ کے لیے قطری حمایت حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔

جرمن اخبار ڈائی زیٹ نے اطلاع دی ہے کہ سال 2019ء کے آغاز پر اینکر ،انٹیلی جنس افسر اور قطری سفارت کار نے دوپہر کے کھانے پر ملاقات کی۔ انہوں نے سیکیورٹی اہلکار جیسن کو خاموش رہنے کے لیے ساڑھے سات لاکھ یورو کی پیش کش کی تھی 750،000 یورو کی پیش کش کی تھی۔