.

ایران کی بدنام زمانہ جیل میں کرونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں بدنام زمانہ جیل "ایفین" میں کرونا وائرس کی وبا پھیل جانے اور متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد ایرانی حکام کو اس معاملے پر پردہ ڈالنے کا کوئی راستہ نہ ملا۔ لہذا انہوں نے حقائق کو جھٹلانے کے لیے ملک میں مقررہ طریقے کے مطابق "منتخب" انٹرویوز نشر کرنا شروع کر دیے۔

ایفین جیل کی بیرک نمبر آٹھ میں 12 قیدیوں کے کرونا سے متاثر ہونے کے بعد ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے جیل کے حوالے سے اپنی مرضی سے منتخب افراد پر مشتمل وڈیو رپورٹس تیار کرنے کی ٹھانی۔

گذشتہ روز منگل کو ایرانی نشریاتی ادارے کی ٹیم ایفین جیل پہنچی۔ اس ٹیم نے وہاں قیدیوں کی طبی حالت اور جیل میں صحت سے متعلق معیار کے حوالے سے منتخب افراد کے انٹرویوز کرنا شروع کر دیے۔

ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کے مطابق یہ پیش رفت "امتداد" نیوز ویب سائٹ پر پیر کے روز جاری رپورٹوں کے بعد سامنے آئی۔ ان رپورٹوں میں بتایا گیا کہ ایفین جیل کے ایک بیرک میں کرونا وائرس سے متاثرہ 12 قیدی موجود ہیں۔ ان رپورٹوں کے نتیجے میں جیل میں موجود قیدیوں، شہری کارکنان اور گرفتار سیاست دانوں کے اہل خانہ کی تشویش میں اضافہ ہو گیا۔

مذکورہ ویب سائٹ کے مطابق ان قیدیوں کے اہل خانہ اور رشتے داروں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں قیدیوں کے خون اور پھیپھڑوں کے ٹیسٹ کی رپورٹیں نہیں دی گئیں۔ مزید برآں یہ کہ بعض رپورٹوں کے نتائج میں متعدد قیدیوں کے وائرس سے متاثر ہونا ظاہر ہوا مگر جیل کے ذمے داران نے اس معاملے کو ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

دوسری جانب اس خبر کے پھیلنے کے بعد ایرانی نشریاتی ادارے کے صحافیوں نے ایفین جیل کے بعض قیدیوں کے اپنی مرضی کے انٹرویوز تیار کرنا شروع کر دیے۔ ان قیدیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کی تردید کر دیں اور یہ تصدیق کریں کہ جیل میں صحت کے حوالے سے صورت حال اچھی ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں حکام پر کرونا وائرس کے متعلق حقیقی تداد چھپانے کے حوالے سے کئی الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔

پیر کے روز ایران نے ایک اخبار کو بند کر دیا۔ اخبار نے ایک ماہر کا بیان شائع کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ملک میں کرونا وائرس کے سبب متاثرین اور اموات کی تعداد کے حوالے سے اعلان کردہ سرکاری اعداد و شمار ،،، حقیقی تعداد کا صرف 5% ہیں۔ تاہم ایرانی وزارت صحت نے ان دعوؤں کی تردید کر دی۔ روزنامہ "جیہان سانات" کے ایڈیٹر انچیف محمد رضا سعدی نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ارنا) کو بتایا کہ حکام نے ان کے اخبار کو بند کر دیا ہے۔ یہ اخبار 2004ء میں شروع کیا گیا تھا اور بنیادی طور پر کاروبار کی خبروں پر مشتمل ہوتا ہے۔

اس سے قبل اتوار کے روز اسی روزنامے نے وبائی امراض کے سائنس دان محمد رضا محبوبفر کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران میں کرونا کے کیسوں اور اس کے سبب اموات کی اصل تعداد وزارت صحت کی جانب سے اعلان کردہ تعداد سے 20 گُنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اخبار کے مطابق محبوبفر نے کرونا کے انسداد کے لیے حکومتی مہم کے لیے کام کیا تھا۔

مذکورہ سائنس دان کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کا انکشاف حکام کی جانب سے 19 فروری کو پہلے مصدقہ کیس کے اعلان سے ،،، ایک ماہ قبل ہو چکا تھا۔ تاہم حکام نے اعلان کو 1979ء کے انقلاب کی سال گرہ اور پارلیمانی انتخابات کے بعد تک کے لیے روک دیا۔

محبوبفر نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے سیاسی اور سیکورٹی وجوہات کے سبب رازداری کا سہارا لیا اور عوام کے سامنے اپنی مرضی کے اعداد و شمار پیش کیے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت صحت کی خاتون ترجمان سیما السادات لاری نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا