.

دھماکے کے بعد حزب اللہ کے عناصر کو بندرگاہ پر دیکھا : عینی شاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے خوف ناک دھماکے کے نتیجے لبنانی دارالحکومت میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔

دھماکے کے سبب ہلاک ہونے والوں میں 17 سالہ لڑکا "جو نون" بھی شامل ہے۔ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ بندرگاہ کے گودام نمبر 12 کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران دوسرا دھماکا ہو گیا۔ دھماکے کے سبب جو کا پورا جسم جھلس گیا۔ دھماکے کے فورا بعد جو نون کا بھائی ولیم نون بیروت کی بندرگاہ کی طرف دوڑ پڑا تا کہ اسے تلاش کر سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ولیم نے بتایا کہ دھماکے کے بعد سے وہ بندرگاہ سے نہیں ہٹا۔ وہ بیروت میں شہری دفاع کے ادارے میں بطور رضاکار کام کرتا ہے۔ اسی سبب ولیم کو لا پتہ افراد کی تلاش کی کارروائیوں میں شریک ہونے کی اجازت مل گئی ، ان افراد میں اس کا اپنا بھائی بھی شامل تھا۔ ولیم کے مطابق بندرگاہ کے اندرونی مناظر دل چیر دینے والے تھے۔

ولیم نے غم و غصے کے جذبات کے ساتھ کہا کہ "آج میں اپنے بھائی کو دفن کر رہا ہوں اور کل مجرموں کا احتساب شروع ہو جائے گا ،،، ہمارے پاس تو اب کھونے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا ،،، ہمارا پیارا تو چلا گیا"۔

موت اور تباہی کے مناظر کے ساتھ ساتھ ولیم نے بتایا کہ حزب اللہ کے عناصر پوری آزادی کے ساتھ بندرگاہ میں آ جا رہے ہیں گویا کہ انہیں وہاں کسی خاص چیز کی تلاش ہو۔

ولیم نے تصدیق کی کہ "میں نے حزب اللہ کے عناصر کو بندرگاہ پر گھومتے پھرتے دیکھا۔ انہوں نے اپنے تنظیمی کارڈز نمایاں کر رکھے تھے تا کہ بندرگاہ کے داخلی راستے پر یہ ظاہر کر کے اندر جانے کی اجازت حاصل کر سکیں۔ یہاں تک کہ بندرگاہ کے اندر ذیلی راستوں کو سرچ آپریشن میں شریک ریسکیو ٹیموں کے لیے بند کر دیا گیا تھا جب کہ صرف حزب اللہ کے عناصر کو اجازت دی جا رہی تھی"۔

اپنے بھائی کی موت سے دل برداشتہ ولیم نے بتایا کہ ان معلومات کو میڈیا تک پہنچانے پر حزب اللہ کے ایک ذمے دار کی جانب سے اسے دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم ولیم کا کہنا ہے کہ وہ ان سے ڈرنے والا نہیں ، وہ اپنے بھائی کو کھو چکا ہے اور اس کے نزدیک اب اس سے زیادہ کچھ بڑا نہیں ہو سکتا۔

ولیم کا کہنا تھا کہ "کم و بیش ہر شخص جانتا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ حزب اللہ کے زیر کنٹرول ہے۔ وہ لوگ وہاں بنا کسی روک ٹوک کے جب چاہیں داخل ہو سکتے ہیں۔ بندرگاہ کے اندر بہت سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ حزب اللہ کے عناصر گودام نمبر 12 میں داخل ہوتے رہتے تھے اور تنظیم کا ایک اعلی عہدے دار مستقل طور پر وہاں منڈلاتا رہتا تھا"۔

ولیم کے مطابق حزب اللہ نے دھماکے کے اگلے روز جاری ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ بندرگاہ کے اندر لا پتہ افراد کی تلاش میں مدد کے لیے تیار ہے۔ تنظیم نے اسلامک ہیلتھ اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے تصرف میں دے دیا۔

ولیم نے سوال کیا کہ "بین الاقوامی صلیبِ احمر اور شہری دفاع کو سرچ آپریشن کا حق نہیں تو پھر (حزب اللہ کی مقرب) اسلامک ہیلتھ اتھارٹی کی ایمبولینس کی گاڑیاں بندرگاہ میں کیوں داخل ہو رہی ہیں"؟

یاد رہے کہ چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے خوف ناک دھماکے نے پورے شہر کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ یہ دھماکا بندرگاہ کے ایک گودام میں کئی برسوں سے موجود ہزاروں ٹن امونیم نائٹریٹ کے پھٹنے سے ہوا۔ آن کی آن میں لبنانی دارالحکومت آفت زدہ کھنڈر کا روپ اختیار کر گیا۔ وزارت صحت نے کل منگل کے روز اعلان میں بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 171 افراد ہلاک ، 6000 ہزار سے زیادہ زخمی اور درجنوں لا پتہ ہو گئے۔