.

موت کے گودام ... عراق میں ملیشیاؤں کے اسلحے کو دور کرنے کے مطالبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے الم ناک دھماکے نے ایک بار پھر عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ہتھیاروں اور عسکری ساز و سامان کے گوداموں کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ ملیشیائیں دارالحکومت بغداد اور عراق کے دیگر شہروں میں رہائشی علاقوں کے اندر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان شہروں میں تكريت اور موصل خاص طور پر شامل ہیں۔ عراقی عوام ان گوداموں کو موت کے ڈپو اور ٹائم بن شمار کرتے ہیں۔

عراقیوں کے دلوں میں یہ خوف گھر کر گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے بیروت میں ہونے والے حادثے کی طرح کا المیہ ان کے اطراف بھی واقع ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ مسلح جماعتوں نے گنجان آباد علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے علاوہ وہاں اپنے ہتھیاروں کے ڈپو بھی بنا رکھے ہیں۔ ایران ان جماعتوں کو براہ راست صورت میں فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔ ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپو عراقی شہریوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

گذشتہ چند روز کے دوران یہ ایسے مطالبات سامنے آئے ہیں جن میں ہتھیاروں کے گوداموں کو شہریوں کے گھروں سے دور کرنے اور عوام کو موت کے ان ڈپوؤں سے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

عراقی حکومت نے ان مطالبات پر کان دھرتے ہوئے گذشتہ ہفتے اپنے ایک اعلی سطح کے عہدے دار کی زبانی اس حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اُن تمام کنٹینروں کو خالی کر دیا جائے جن میں انتہائی خطرناک یا کیمیائی یا دھماکے کے قابل کسی بھی قسم کا مواد موجود ہے خواہ یہ بحری، زمینی یا فضائی کسی بھی سیکٹر سے متعلق ہوں۔ اسی طرح بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے حادثے کی طرح کے کسی بھی واقعے سے بچنے کے لیے مطلوبہ حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

عراقیوں نے سوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر پر کئی ہیش ٹیگ جاری کیے ہیں۔ ان میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملیشیاؤں کے اسلحے کو شہروں سے دور کیا جائے۔ ان میں عراقی حزب اللہ ملیشیا کا اسلحہ نمایاں ترین ہے۔

اس مسئلے کے حوالے سے دیالی صوبے کی کونسل کی خاتون رکن نجات الطائی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کے دوران عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے مطالبہ کیا کہ وہ عراقی شہریوں کی جانوں اور ان کی املاک کی حفاظت کے لیے اہم اور جلد اقدام کریں۔ اس سلسلے میں رہائشی علاقوں کے نزدیک واقع ڈپوؤں میں موجود ہر طرح کا اسلحہ دور کیا جائے تا کہ لبنان جیسا المیہ دوبارہ نہ پیش ہوا۔

دوسری جانب تزویراتی تجزیہ کار اور مسلح جماعتوں کے امور کے ماہر رعد ہاشم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے شہروں کو ایران نواز ملیشیاؤں کے اسلحے سے پاک کرنے کے مطالبات حقیقت پر مبنی ہیں۔ اس لیے کہ ماضی میں بالخصوص بغداد میں کئی حادثات اور دھماکے ہو چکے ہیں۔

رعد کے مطابق بالخصوص عراقی حزب اللہ ملیشیا کے اسلحے نے جس میں طویل مار کے ایرانی میزائل شامل ہیں ،،، جرف الصخر شہر کو جہاں یہ اسلحہ ذخیرہ کیا گیا ہے خطرے کا گڑھ بنا دیا ہے۔ ایران اس بات کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ عراق کو تہران اور امریکا کے درمیان معرکے کا میدان بنا دے۔ رعد نے انکشاف کیا کہ صلاح الدین صوبے میں آمرلی شہر ایرانی ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کا ڈپو بن چکا ہے۔ یہاں ماضی میں کئی حادثات پیش آ چکے ہیں۔

عراقی تجزیہ کار نے مزید بتایا کہ ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے مقامات ان مسلح ملیشیاؤں کے نفوذ کے علاقوں کے مطابق تقسیم ہیں۔

دوسری جانب اکتوبر 2019 میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق کمیٹی کے رکن علی عزیز کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مصطفی الکاظمی پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد ان مسئلے کو حل کریں اور ملیشیاؤں کے حد سے تجاوز کرنے پر روک لگائیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ اس سمت پہلا درست اقدام یہ ہے کہ شہروں اور لوگوں کے بیچ پھیلی ہوئی ان ملیشیاؤں کے ہتھیاروں کے تمام گوداموں کو بند کر دیا جائے اور تمام تر اسلحہ ضبط کر لیا جائے۔ عراقی ریاست کی رٹ بحال کرنے اور عسکری اور سیکورٹی اداروں کی مضبوط کی جانب یہ پہلا قدم ہو گا۔

سیاسی کارکن زیدون عماد نے العربیہ ڈاٹ یٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج تنازع ریاست اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان ہے۔ یہ ملیشیائیں اور ان کا اسلحہ بالعموم شہریوں کی آزادی اور بالخصوص ایران کے خلاف آزادی اظہار کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ اس لیے کہ شہریوں کی آواز کو ہتھیار کے زور پر دبائے جانے کا اندیشہ ہے۔ ایران نواز ملیشیاؤں کے خطرے کے حوالے سے اٹھنے والی ہر آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرا دینے کا خطرہ ہے۔ اس حوالے سے سیکورٹی امور کے ماہر ہشام الہاشمی کا قتل یاد رکھا جانا چاہیے۔