.

مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ترکی کی مداخلت کے خلاف امارات کی سلامتی کونسل میں شکایت

ترکی کا مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مداخلت کا طویل ریکارڈ ہے: امارات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ترکی کی مسلسل مداخلت کی شکایت کی ہے۔ امارات کی طرف سے سلامتی کونسل کو بھیجے پیغام میں کہا ہے کہ مشرق وسطی کے ممالک میں مداخلت کا ترکی کا طویل ریکارڈ ہے۔
مکتوب میں متحدہ عرب امارات کی لیبیا میں سلامتی اور امن کی حمایت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں ترکی سے متعلق سوالات کو مسترد کر دیا گیا۔

کل بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا کہ عرب امارات ترکی کی جانب سے عراق کی خود مختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف بغداد کے ساتھ کھڑا ہے۔

قرقاش نے 'ٹویٹر' پر ایک ٹویٹ میں مزید کہا عرب ممالک کے امور میں علاقائی مداخلت کو مسترد کرنا ہمارا موقف مستقل ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے کہا کہ ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات خودمختاری کے مکمل احترام اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہونا چاہئے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ ترکی عرب امور میں سیاسی اور عسکری طور پر مداخلت کر رہا ہے۔ ترکی نے شمالی شام میں مداخلت کی۔ لیبیا کی فوج کے خلاف الوفاق ملیشیا کی مدد کے لیے جنگجو اور اسلحہ بھیج رہا ہے۔ ترکی نے شمالی عراق کے قصبے "حفتنین" میں خصوصی فوج بھی تعینات کی ہے اور عراق میں فوجی کارروائیوں میں متعدد اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں