یو اے ای سے امن معاہدہ عرب دنیا سے تعلقات کے نئے دورکا آغاز ثابت ہوگا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان عرب دنیا کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے ’’نئے دور‘‘ کا آغاز ثابت ہوگا۔

انھوں نے جمعرات کی شب سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای کے ساتھ ’’مکمل اور سرکاری طور پر امن کے قیام‘‘ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نتیجے میں شہریوں کے شاندار مستقبل کی راہیں کھلیں گی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد 1994ء میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات معمول کے مکمل سفارتی تعلقات قائم کریں گے اور اسرائیل اس کے بدلے میں غرب اردن میں فلسطینیوں کی مزید اراضی کو نہیں ہتھیائے گا۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے غربِ اردن میں واقع اپنے زیر قبضہ وادی اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔نیتن یاہو نے ان علاقوں میں صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشمل اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔

وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق یہ امن معاہدہ اسرائیل ، یو اے ای اور امریکا کے درمیان طویل مذاکرات کا نتیجہ ہے اور ان کے درمیان مذاکراتی عمل میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امن معاہدے کا خود اعلان کیا ہے اور اس کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔انھوں نے کہاکہ’’آج ہمارے دو عظیم دوست ممالک اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا ہے۔‘‘

انھوں نے اوول آفس، وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اب برف پگھل چکی ہے۔میں یہ توقع کرتا ہوں کہ مستقبل میں مزید عرب اور مسلم ممالک بھی متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے۔‘‘ صدر ٹرمپ ہی نے تینوں ملکوں کی جانب سے ٹویٹر پر اس معاہدے سے متعلق ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں