.

ایران پر اسلحہ کی پابندی سے متعلق قرارداد پر سلامتی کونسل میں رائے شماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" اور "الحدث" چینلوں‌ کے نامہ نگاروں کے مطابق ایران پر اسلحہ کی پابندی سے متعلق قرارداد کے مسودے پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ شروع کر دی گئی ہے۔

یہ رائے شماری ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور چین نے ایران پر اسلحہ کی پابندی سے متعلق قرارداد کی مخالفت کی ہے۔

اتوار کی شام امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خلیج تعاون کونسل کے پیغام کی وضاحت کی جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا کہ ایران دُنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا کفیل ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی سے ایران کو اسلحہ کہ فراہمی سےخطے کو خطرہ لاحق ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے کہا کہ روس اور چین ایران پر اسلحہ کے حصول پر عاید پابندی کے خاتمے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں‌ ملک اس موقع کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ تہران کو اسلحہ بیچ سکیں۔

مائیک پومپیو صرحت کے ساتھ کہہ چکے ہیں کہ چین کا ایران میں داخلہ مشرق وسطی کو غیر مستحکم کردے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کو یقینی بنانے کے لیے ہرسطح پر کام کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی کامیابی پر "پر اعتماد ہیں"۔

خیال رہے کہ سنہ 2015ء میں ایران ، روس ، چین ، جرمنی ، برطانیہ ، فرانس اور امریکا کے مابین طے پائے معاہدے کے تحت روں سال اکتوبر میں ایران پر اسلحہ کے حصول پرعاید کردہ پابندی ختم ہوجائے گی۔ تاہم امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ایران کو اسلحہ کے حصول سےروکنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سنہ 2018 ء ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کرلی تھی۔ امریکا نے اسے بدترین معاہدہ قرار دیا تھا۔