.

حزب اللہ دہشت گردانہ وسائل کے ذریعے ہمارے امن کو تباہ کرنا چاہتی ہے:لتھوانیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے رکن ملک جمہوریہ لتھوانیا کے وزیر برائے امور خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے ہمارے سیکیورٹی اداروں کے ذریعہ حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ حزب اللہ دہشت گردانہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے لتھوانیا سمیت کئی دوسرے ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ لتھوانیا امریکا، جرمنی ، برطانیہ ، نیدرلینڈز اور دوسرے ممالک کے ساتھ کھڑا ہے جو حزب اللہ کےحوالے سے اسی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں۔

لیتھوانیا میں وزارت امیگریشن نے حزب اللہ سے وابستہ افراد کو پارٹی کے اندر اپنی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کی بنیاد پر 10 سال تک ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ عناصر ملکی مفادات کے لیے خطرہ قرار دیے گئے ہیں۔

اپریل کے آخر میں جرمنی نے اپنی سرزمین پر ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی تھی اور حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

ماضی میں جرمنی نے اس گروپ کے سیاسی بازو اور شام کی حکومت کی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی فوجی اکائیوں کے مابین فرق کی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا۔

جرمنی کی پارلیمنٹ نے حزب اللہ پر پابندی کے قانون کی منظوری کے لئے گذشتہ دسمبر رائے شماری کی تھی جس کے بعد حکومت نے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔